رسائی کے لنکس

گوانتاناموبے کا سابق قیدی یمن میں امریکی فضائی کارروائی میں ہلاک


(فائل فوٹو)

گزشتہ پانچ روز کے دوران یمن میں امریکہ نے 40 سے زائد فضائی کارروائیاں کیں اور ان کا ہدف یمن میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ فی جزیرۃ العرب‘ یا (اے کیو ای پی) کے ٹھکانے تھے۔

امریکہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یمن میں دہشت گردوں کے خلاف ایک حالیہ فضائی کارروائی میں القاعدہ کے مارے جانے والے کئی جنگجوؤں میں گوانتاناموبے کا ایک سابق قیدی بھی شامل ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان نیوی کے کیپٹن جیف ڈیوس نے کہا کہ یاسر السلمے کیوبا میں امریکہ کے حراستی مرکز گوانتاناموبے میں 2002 سے 2009 تک قید رہا، اور دو مارچ کو یمن میں فضائی کارروائی میں مارے جانے والوں میں وہ بھی شامل تھا۔

گزشتہ پانچ روز کے دوران یمن میں امریکہ نے 40 سے زائد فضائی کارروائیاں کیں اور ان کا ہدف یمن میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ فی جزیرۃ العرب‘ یا (اے کیو ای پی) کے ٹھکانے تھے۔

ترجمان جیف ڈیوس نے کہا کہ اتوار کو تازہ کارروائی میں (اے کیو ای پی) کے سات کارندے مارے گئے، اُن کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد القاعدہ کے شدت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

یاسر السلمے کا تعلق یمن سے ہے اور اُنھیں سابق صدر براک اوباما کے دور میں 2009 میں گوانتاناموبے سے منتقل کیا گیا تھا۔

پینٹاگان کے اندازوں کے مطابق گوانتاناموبے سے رہائی پانے والوں میں سے 30 فیصد نے ایک بار پھر شدت پسندی کا راستہ اختیار کیا۔

اب بھی گوانتاناموبے میں 41 قیدی موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG