رسائی کے لنکس

logo-print

صدر زرداری کے دستخط کے بعد انیسویں ترمیم آئین کا حصہ


صدر زرداری کے دستخط کے بعد انیسویں ترمیم آئین کا حصہ

صدر آصف علی زرداری نے پارلیمان سے منظور ہونے والی انیسویں آئینی ترمیم پر ہفتہ کو دستخط کردیے جس کے بعد یہ ترمیم اب پاکستان کے آئین میں شامل ہوکر قانون کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔

دستخط کی تقریب کراچی میں ہوئی جس میں وفاقی و صوبائی وزراء کے علاوہ آئینی کمیٹی کے سربراہ رضاربانی اور اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔

اس سے قبل ایوان بالا یا سینیٹ نے جمعرات کو انیسویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی ۔ سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری کے دوران 80 ارکان نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق اس ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا جب کہ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔

رواں سال 21 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے اٹھارویں ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے طریقہ کار کی شق 175 اے پراپنے فیصلے میں اس معاملے کو پارلیمنٹ کو دوبارہ بھجواتے ہوئے پارلیمان کو تین ماہ کی مدت دی تھی۔

رضا ربانی کی سربراہی میں قائم پارلیمان کی 26رکنی کمیٹی نے متفقہ طور پر 19ویں ترمیم کی منظوری دی جس میں آئین کی چھ شقوں میں 26 ترامیم تجویز کی گئیں ۔ ان میں سے ایک شق میں ججوں کی تعیناتی کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں ججوں کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کر نے کی تجویز دی گئی۔

ترمیم کی پارلیمان سے منظوری کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ سینیٹ نے آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرکے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے۔ ”یہ ملک کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے۔“ اُنھوں نے کہا کہ انیسویں آئینی ترمیم کی دونوں ایوانوں سے منظوری نے اداروں کے مابین تصادم کے خدشات دور کر دیے ہیں۔

وزیر اعظم نے ترمیم کی تیاری میں شامل آئینی کمیٹی کے ارکان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُن کو جنوری میں اعلیٰ ترین سول اعزاز ”ستارہ پاکستان“ سے نوازنے کا اعلان بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG