رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی امریکہ سفر کرنے والی نو حاملہ امریکی خواتین زِکا سے متاثر


امریکہ میں زِکا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر ڈینس جیمیسن نے جمعے کو زکا پر بریفنگ میں کہا کہ ’’ہمیں سفر کرنے والی حاملہ امریکی خواتین کے اتنے کم کیسوں میں بچوں کے دماغی نقائص کی توقع نہیں تھی۔‘‘

بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق امریکی ادارے سی ڈی سی نے کہا ہے کہ امریکہ سے زِکا کی وبا سے متاثرہ ملکوں میں سفر کرنے والی نو حاملہ خواتین اس وائرس سے متاثر ہوئیں جن میں سے ایک نے غیر معمولی چھوٹے سر والے بچے کو جنم دیا۔

دیگر آٹھ عورتوں میں سے دو کا حمل خود ہی گر گیا اور دو نے الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں بچوں میں دماغی نقائص کا پتا چلنے کے بعد اسقاط حمل کروا لیا جبکہ دو کے ہاں صحت مند بچوں کی پیدائش ہوئی اور دو عورتیں بظاہر صحت مند بچوں سے ابھی حاملہ ہیں۔

سی ڈی سی میں زِکا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر ڈینس جیمیسن نے جمعے کو زکا پر بریفنگ میں کہا کہ ’’ہمیں سفر کرنے والی حاملہ امریکی خواتین کے اتنے کم کیسوں میں بچوں کے دماغی نقائص کی توقع نہیں تھی۔‘‘

سی ڈی سی 10 مزید حاملہ عورتوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

سی ڈی سی کے سربراہ ڈاکٹر ٹام فریڈن نے کہا کہ زکا وائرس اور چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے درمیان تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا مگر ’’ایسے زیادہ سے زیادہ شواہد سامنے آرے ہیں‘‘ جن سے معلوم ہوتا ہے ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے۔ اس سے پہلے مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی کسی بیماری سے بچوں میں پیدائشی نقائص پیدا ہونا ثابت نہیں ہوا اور اگر زکا وائرس اور بچوں کے پیدائشی نقائص میں تعلق ثابت ہو جاتا ہے تو یہ پہلا ایسا موقع ہو گا۔

ڈاکٹر فریڈن نے کہا کہ زِکا وائرس سے چھوٹے سر کے بچوں کی پیدائش کو ثابت کرنا مشکل ہے اور اس میں دیگر عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ چھوٹے سر والے بچوں میں نقص حمل ٹھہرنے کے بعد پہلے تین ماہ میں پیدا ہوتا ہے جب بچوں کے دماغ کی نشونما ہوتی ہے۔

یہ معلوم نہیں کہ زِکا سے اسقاط حمل ہوتا ہے کہ نہیں مگر ڈاکٹر فریڈن نے کہا کہ کہ عمومی حالات میں 20 فیصد حمل خود ہی گر جاتے ہیں۔

اگرچہ مچھر زِکا وائرس کی منتقلی کی بنیادی وجہ ہیں مگر سی ڈی سی نے چھ ایسے کیسوں کی تصدیق کی ہے جن میں وائرس مردوں سے عورتوں میں جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہوا۔

سی ڈی سی 14 ایسی رپورٹوں کی بھی تحقیق کر رہا ہے جن میں زکا وائرس ممکنہ طور پر جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہوا جن میں حاملہ عورتیں بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر ٹام فریڈن نے کہا کہ ادارہ اتنے زیادہ کیسوں میں جنسی طور پر وائرس منتقل ہونے کی توقع نہیں کر رہا تھا اور انہوں نے اس سلسلے میں مناسب احتیاط کی ہدایت کی۔

ابھی یہ معلوم نہیں کہ حمل کے دوران وائرس سے متاثر ہونے والی عورت کے ہاں پیدا ہونے والے صحتمند بچے پر آنے والے سالوں میں وائرس کے اثرات مرتب ہوں گے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG