رسائی کے لنکس

logo-print

زمبابوے میں مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک


زمبابوے کے صدرمقام ہزارے میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے فوج سٹرکوں پر گشت کر رہی ہے۔ 2 اگست 2018

زمبابوے کے انسانی حقوق کے کارکنوں نے الیکشن کے بعد ہرارے میں تشدد کے واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 6 افراد کی ہلاکت اور 14 کے زخمی ہونے کی شديد مذمت کی ہے۔

ملک کے قومی الیکشن کمشن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان جلد کر دے گا۔

زمبابوے کی الیکشن کمشن کے چیئر میں ایمانوئل میگارڈے نے کہا ہے کہ گنتی میں ہر گز کوئی ہیرا پھیری یا بددیانتی نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج کا اعلان کرنے کے لیے ان کے پاس 4 اگست تک کی مہلت ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی نتائج کا اعلان کر دیں گے۔

نتائج کے بعد ملک کی صورت حال کوئی بھی رخ اختیار کر سکتی ہے۔ حزب اختلاف کی لیڈر نیلسن چھامیسا اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں اس کا کہنا کہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ انتخابات میں دھاندلی یا ہیراپھیری نہیں کر سکتے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر نتائج آپ کے حق میں نہ آئے تو پھر کیا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب اپنے عہدے پر موجود صدر ایمرسن مونا گاگوا نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ میں جیت چکا ہوں، لیکن ہمیں نتیجے کے باقاعدہ اعلان کا انتظار ہے۔

بدھ کے روز چھامیسا کے سینکڑوں برہم حامیوں نے الیکشن کمشن پر پتھراؤ کیا۔ اور جب پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے تو مظاہرین جواباً ان پر بھی پتھر پھینکے۔ اس کے بعد فوج کو طلب کر لیا گیا جس نے گلی کوچوں میں لوگوں کو روندا، انہیں مارا پیٹا اور گولیاں برسائیں۔

زمبابوے پیس پراجیکٹ کی ڈائریکٹر جسٹینا موکوکو نے سپائیوں کی کارروائی کو وحشیانہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب فوج کی گاڑیاں آئیں تو اس وقت صورت حال پولیس کے کنٹرول میں تھی ۔ انہوں نے انہوں نے پورے علاقے میں لوگوں پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ فوج کا یہ کردار مظاہروں پر قابو پانے سے متعلق بین الاقوامی معیاروں کے منافی تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG