رسائی کے لنکس

زمبابوے: مظاہرین کا موگابے سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ


زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے اور دیگر شہروں میں ہفتہ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد صدر رابرٹ موگابے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔

اطلاعات کے مطابق موگابے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ فوج کے علاوہ ان کی اپنی سیاسی جماعت کے ارکان اور دیگر سیاسی کارکنان بھی ان سے مستعفی ہونے پر زور دیتے آ رہے ہیں۔

93 سالہ موگابے گزشتہ 37 سال سے زمبابوے کے منصب صدارت پر براجمان چلے آ رہے ہیں۔

فوج نے گزشتہ بدھ کو اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ان کی رہائش گاہ تک محدود کر دیا تھ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو "صدر کے قریب موجود چور" قرار دیتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔

فوج کی طرف سے اس قبضے کے بعد پہلی مرتبہ موگابے جمعہ کو اس وقت منظر عام پر آئے تھے جب انھوں نے ہرارے کی ایک جامعہ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔

رابرٹ موگابے ہرارے میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شریک ہیں
رابرٹ موگابے ہرارے میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شریک ہیں

وہ نیلے اور پیلے رنگ کا ایک گاؤن زیب تن کیے ہوئے تھے اور انھیں متعدد بار اونگھ میں جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ موگابے نے کئی امور پر بات کی لیکن موجودہ سیاسی بے یقینی پر کوئی بیان نہیں دیا۔

حزب مخالف کے ارکان صدر کی طرف سے اقتدار نہ چھوڑے جانے پر مضطرب دکھائی دیتے ہیں اور ان کے راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ہونے والے مظاہروں کا مقصد موگابے پر مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک روز قبل کہا تھا کہ اب وقت ہے کہ جنوبی افریقہ کے اس ملک میں سویلین اقتدار واپس آئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG