رسائی کے لنکس

زمبابوے: رابرٹ موگابے ’’اپنے گھر تک محدود‘‘


ہرارے

اب رابرٹ موگابے کی قسمت غیر یقینی بن چکی ہے۔ وہ 37 برس اقتدار میں رہے ہیں، اور یوں لگتا ہے کہ اُن کو ہٹانے کی کوشش کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے

ایک طویل عرصے سے عہدے پر فائز رہنے والے زمبابوے کے صدر کو ’’اپنے گھر تک محدود کر دیا گیا ہے‘‘۔ یہ بات جنوبی افریقہ کے صدر نے بدھ کے روز بتائی ہے، جس کے بعد رابرٹ موگابے کی قسمت غیر یقینی بن چکی ہے۔ وہ 37 برس اقتدار میں رہے ہیں، اور یوں لگتا ہے کہ اُن کو ہٹانے کی کوشش کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے۔

سماجی میڈیا کے اکاؤنٹس نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت، ہرارے میں صورت حال کشیدہ ہے، جب کہ کچھ کاروبار صبح ہی سے ٹھپ ہے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، زمبابوے میں فوج نے ملک کے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے لیکن فوجی جنرلوں نے صدر رابرٹ موگابے کی حکومت کا تختہ الٹنے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

زمبابوے کی فوج کے دستوں نے منگل کی رات دارالحکومت ہرارے میں سرکاری نشریاتی ادارے کے صدر دفتر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جب کہ فوجی اہلکاروں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے ملکی پارلیمان کی طرف جانے والے راستوں کو بھی بند کردیا ہے۔

دارالحکومت کے مرکزی شاہراہوں پر فوجی دستوں کے گشت کرنے کی بھی اطلاعات ہیں جب کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب دارالحکومت میں واقع صدر موگابے کی نجی رہائش گاہ کے نزدیک بھی فائرنگ کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔

فوج کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر موگابے اور ان کے اہلِ خانہ محفوظ ہیں اور ان کی سکیورٹی یقینی بنائی گئی ہے۔

فوج کے ایک افسر میجر جنرل سیبوسیسو مویو نے سرکاری ٹی وی پر ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے کہا ہے کہ فوج صرف ان جرائم پیشہ لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو صدر کے ارد گرد موجود ہیں اور جیسے ہی یہ مشن مکمل ہوگا، صورتِ حال معمول پر آجائے گی۔

جنرل مویو نے یہ وضاحت بھی کی کہ فوج کی یہ کارروائی حکومت کا تختہ الٹنے یا اقتدار سنبھالنے کے لیے نہیں ہے۔

زمبابوے کی حکمران جماعت 'زانو –پی ایف' اور فوج کے درمیان حالیہ چند روز کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور حکمران جماعت نے ایک روز قبل ہی فوج کے سربراہ جنرل کونسنٹینو چیوینگا پر "باغی رویے" کا الزام عائد کیا تھا۔

فوج کے سربراہ نے صدر موگابے کی جانب سے اپنے نائب صدر ایمرسن ننگگوا کو برطرف کرنے پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی صورتِ حال بہتر نہ ہونے پر فوجی مداخلت کی دھمکی دی تھی۔

صدر موگابے کی عمر 93 برس ہے اور وہ 1980ء میں زمبابوے کی برطانیہ سے آزادی کے بعد سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔

وہ اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک کے سب سے عمر رسیدہ سربراہ ہیں اور ان کی روز بروز بگڑتی ہوئی خراب صحت کے باعث ان کے قریبی مشیروں کے مابین ان کی جگہ سنبھالنے کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔

حالیہ چند برسوں کے دوران صدر کی جانب سے اپنی 52 سالہ اہلیہ گریس موگابے کو اہم عہدے اور ذمہ داریاں دینے کے بعد عام تاثر یہ ہے کہ وہ اقتدار اپنی اہلیہ کو سونپنے کی تیاری کر رہے ہیں اور اعلیٰ فوجی قیادت بظاہر اس کی مخالف ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG