عراق میں عام شہریوں کے قتل میں ملوث بلیک واٹر کے گارڈ کا مقدمہ خارج

بلیک واٹر کا ایک سیکیورٹی گارڈ عراق کے ایک نامعلوم علاقے میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ فائل فوٹو

سیکیورٹی فراہم کرنے والی امریکی کمپنی بلیک واٹر کے ایک گارڈ کے خلاف سن 2007 میں عراق میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کے قتل عام کے مبینہ الزام کی سماعت کرنے والی عدالت کی جیوری بدھ کو کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج رائس سی لیمبرتھ نے جیوری کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ دو ہفتوں تک جاری رہنے والے بحث مباحثے کے بعد وہ بدستور منقسم ہیں، اپنے حکم میں کہا کہ مقدمے میں نقائص ہیں۔

بلیک واٹر سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ نکولس سلیٹن پر الزام تھا کہ اس نے 16 ستمبر 2007 کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ناصر سکوائر میں اپنی مشین گن سے لوگوں پر گولیاں چلائیں اور دستی بم پھینکے جس سے 31 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس وقت سے امریکہ کا محکمہ انصاف اس واقعہ کے ذمہ دار سلیٹن کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل 2014 میں سلیٹن کو قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ پچھلے سال اگست میں ایک اپیل کورٹ نے سزا کو ختم کرتے ہوئے نئے سرے سے مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔