بچوں کو جنسی مجرموں سے کیسے بچائیں؟

امریکی گھرانے اور اسکول بچوں کو زیادتی کے واقعات سے بچانے کے لیےانہیں اپنی حفاظت خود کرنے کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اور شروع ہی سے لوگوں کی جانب سے انہیں چھونے کے اچھے اور برے انداز کے بارے میں سمجھا دیا جاتا ہے۔

بچوں کو جنسی مجرموں سے کیسے بچائیں؟ وہ کیا علامات ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی جنسی مجرم یا ذہنی مریض بچے کی زندگی میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر کوئی بچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بن جائے تو والدین فوری طور پر کیا کریں اورزیادتی کے شکار بچوں کو نفسیاتی اور ذہنی دباؤ سے نکال کر معمول کی زندگی پر واپس کیسے لائیں۔

یہ تھے وہ سوال جن کے جوابات دیے ہر دم رواں ہے زندگی میں فلوریڈا کی ایک پاکستانی امریکی چائلڈ سائکیٹرسٹ روبینہ عنایت ، اسلام آباد میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بارے میں ایک ریسورس سینٹرروزن کی ماہر نفسیات صاعقہ اشرف، بچوں کے حقوق کے ایک علمبردار ادارے ساحل کے سینیر پروگرام آفیسر ممتاز گوہراور بچوں کے حقوق کے تحفظ پر ریسرچ سے متعلق پاکستان کے ایک ممتاز ادارے سپارک کے مینیجر ریسرچ اینڈ کمیونی کیشنز فرشاد اقبال نے جوپاکستان بھر میں بچوں کے حقوق کے لیے کوشاں ساڑھے چار سو غیر سرکاری فلاحی ا داروں اور سر گرم کارکنوں کے ایک نیٹ ورک چائلڈ رائٹس موومنٹ یا سی آر ایم نیشنل کے رابطہ کار بھی ہیں۔

قصور کی زینب کے واقعے کے تناظر میں ترتیب دئے گئے اس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فرشاد اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف زیادتیوں کےواقعات کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن اس بارے میں اعداد و شمار اکٹھا کرنے والے پاکستان کےایک ممتاز غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق2016 میں ملک بھر میں اس بارے میں 4139 کیس رپورٹ ہوئے جب کہ 2015 میں یہ تعداد 3738 تھی اور 2017 کے پہلے چھ ماہ میں 1764 کیس رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ بہت سے لوگ سماجی وجوہات کی بنا پر اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ نہیں کراتے۔

فرشاد اقبال نے، جن کا ادارہ اس موضوع پر ریسرچ سے وابستہ ہے،بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قانونی نظام کمزور ہے ، اسپتالوں میں اس قسم کے متاثرین کی طبی رپورٹس کے اندراج کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے، معاشرے میں عمومی طور پر ایسے واقعات کو باعث شرم سمجھا جاتا ہے جب کہ جب کہ بہت سے دیہی علاقوں میں ایسی زیادتیوں کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہی وجہ ہے کہ بچوں کے خلاف زیادتیوں کے یہ مجرم قانون کی پکڑ سے بچ جاتے ہیں اوراپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں، جب کہ متاثرین کےلواحقین اپنی نیک نامی پر حرف آنے کے خوف اور عدالتوں اور پولیس کچہریوں کے چکروں سے بچنے کے لیے یا تو ان کی رپورٹنگ نہیں کراتے یا پھر عدالت سے باہر ہی ان معاملات کو طے کرتے ہیں۔

فلوریڈا کی چائلڈ سائیکیٹرسٹ روبینہ عنایت نے کہا کہ امریکہ میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں اور ہر سال لگ بھگ 90 ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں اور یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیوں کہ بہت سے کیس رجسٹر نہیں کرائے جاتے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی گھرانے اور اسکول بچوں کو زیادتی کے واقعات سے بچانے کے لیےانہیں اپنی حفاظت خود کرنے کی تعلیم اور تربیت کا اہتمام کرتے ہیں اور شروع ہی سے لوگوں کی جانب سے انہیں چھونے کے اچھے اور برے انداز کے بارے میں سمجھا دیا جاتا ہےجسے گڈ ٹچ ، بیڈ ٹچ یا سیکرٹ ٹچ کا نام دیا جاتا ہے جب کہ انہیں اجنبیوں سے دور رہنےکی تلقین کی جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کا ارتکاب صرف اجنبی ہی نہیں بلکہ اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں بھی ہوتا ہے۔

صاعقہ اشرف نے کہا کہ پاکستان میں غریب گھرانوں کے وہ بچے جو اسکول نہیں جا پاتے یا گھروں سے باہر معمولی ملازمتیں کرتے ہیں اکثر جنسی مجرموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جب کہ عام گھرانوں کے بچےاپنے گھروں میں اکثر آنے والےکسی قریبی عزیز یا دوست کے ہاتھوں بھی زیادتی کا نشانہ بنتےہیں اوریوں بچپن کے یہ واقعات ساری عمر ان کی شخصیت پر اثر اندازرہتے ہیں۔

روبینہ عنایت نے کہا کہ اگر کسی بچے کےمعمول کے رویئے میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع ہو، وہ اچانک چڑ چڑا یا الگ تھلگ رہنے لگے ، یا پڑھائی میں اس کے گریڈز کم آنے لگیں یا وہ قریبی حلقے کے کسی ایسے فرد سے بچنے لگےجس سے وہ پہلے قریب تھا تو والدین کو چاہیے کہ وہ اس سے بہت پیار سے اصل بات کا پتہ لگانے کی کوشش کریں اور اگر بچہ کسی جنسی زیادتی کا شکار ہوا ہو یا ہو رہا تو اسے یہ یقین دلائیں کہ اس واقعے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہےاور بچے کی کونسلنگ کرائیں اورمجرم کو سزا دلانے کے اسباب کریں۔

پاکستان میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں کے لیے قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے والے ادارے ساحل کے سینئر پروگرام آفیسر ممتاز گوہر نے کہا کہ اگر خدانخواستہ کسی کا بچہ یا بچی زیادتی کا شکار ہو جائے تو مجرم کو انصاف کے کٹہرے تک لانےا ور انصاف حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ بچے کو 12 سے 24 گھنٹے کے اندر کسی غسل کے بغیر قریبی سرکاری ہسپتال میں لے جا کر میڈیکل رپورٹ حاصل کریں اور پھر قریبی پولیس اسٹیشن میں اس کی رپورٹ درج کرائیں ۔ اور اگر کسی مالی یا قانونی مشکل کی وجہ سے وہ عدالتی چارہ جوئی میں کوئی رکاوٹ محسوس کریں تو وہ ان کے ادارے ساحل سے رابطہ کر سکتے ہیں جو پاکستان بھر میں اپنے چھ ہزار وکلا کی مدد سے ایسے بچوں کے لییے مفت قانونی مدد فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان بھر سے کسی بھی متاثرہ بچے کے لواحقین یہ مدد حاصل کرنے میں راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور بچے کی نفسیاتی بحالی کے لئے مفت کونسلنگ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔