رسائی کے لنکس

logo-print

قصور: کم سن بچی سے زیادتی اور قتل کے خلاف پر تشدد احتجاج، دو ہلاک


فائل فوٹو

بدھ کو نماز جنازہ سے قبل سیکڑوں افراد پولیس کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع قصور میں ایک کم سن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے واقعے پر ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جب کہ بدھ کو مقتول بچی کی نماز جنازہ سے قبل مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق آٹھ سالہ بچی زینب گزشتہ جمعرات کو رود کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی لیکن وہاں سے گھر واپس نہیں پہنچی۔

بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے جب کہ خاندان کے دیگر افراد نے بچی کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو دی۔

سی سی ٹی وی سے حاصل کردہ ایک فوٹیج میں اس بچی کو صدر پولیس تھانے کی حدود میں ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دیکھا گیا۔

لیکن چار روز گزرنے کے باوجود بچی کا کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ منگل کو اس واقعے کی تفتیش میں مصروف پولیس اہلکار کو کچرے کے ایک ڈھیر سے زینب کی لاش ملی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر ہلاک کیا گیا۔

مقتول بچی زینب (فائل فوٹو)
مقتول بچی زینب (فائل فوٹو)

قصور میں بدھ کو شہر کی فضا سوگوار ہے اور کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے واقعے پر احتجاج اور سوگ کے لیے ہڑتال کی ہے۔

بدھ کو نماز جنازہ سے قبل سیکڑوں افراد پولیس کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے دفاتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔

حکام نے بتایا ہے کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بچی کی نمازِ جنازہ حکومت مخالف جماعت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پڑھائی، جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہونے والے حکمرانوں کو اخلاقی طور پر فوراً اقتدار سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔"

واقعے کا نوٹس

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود اس معاملے میں پیش رفت کی نگرانی کریں گے۔

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے متعلقہ حکام پر واضح کر دیا ہے کہ "اس معاملے پر زبانی کلامی کچھ نہیں ہوگا اور اگر اس واقعے کے ذمہ داران کو فوری گرفتار نہیں کیا جاتا تو حکام کے خلاف کارروائی ہوگی۔"

فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ غمزدہ والدین کی طرف سے آرمی چیف سے کی گئی اپیل پر جنرل باجوہ نے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فوری طور پر سول انتظامیہ کی مدد کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔

بچی کے والد کا تدفین سے انکار

قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی پری کے والدین عمرہ ادائیگی کے بعد جمعرات کو بے نظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچے۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں زینب کے والد امین انصاری نے کہا کہ سیکیورٹی تو صرف حکمرانوں کے لیے ہے ہم تو کیڑے مکوڑے ہیں۔ عام آدمی کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ پولیس نے ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ بالکل تعاون نہیں کیا۔ پولیس کارروائی کرتی تو ملزم گرفتار ہو جاتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بچی کو تب تک نہیں دفنائیں گے جب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے بچیوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے خوفزدہ ہیں۔

بچی کے والد نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے انصاف کی فراہمی کے لئے درخواست کی ہے۔

سیاسی و سماجی حلقوں کا ردعمل

ادھر مختلف سیاسی رہنماؤں کے علاوہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان نے بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر زینب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس واقعے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے حکمران خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بلاول نے دعویٰ کیا کہ "ایک سال میں کم سن بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل کے 10 واقعات قصور اور 11 شیخوپورہ میں رونما ہو چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کے بعض حصے بچوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے جہنم بن چکے ہیں۔ لیکن شریف برادران بطور حکمران اپنے فرائض سے غافل معلوم ہوتے ہیں۔"

انھوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اور "ہمیں قصورواروں کو جلد سزا دے کر اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچے محفوظ ہیں۔"

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے لیے تحاریک التوا

جماعت اسلامی کی جانب سے بھی پاکستان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحاریک التوا جمع کرادی ہیں۔ تحاریک میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ضلع قصور میں بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی پہلے اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں 2015 میں قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا اسیکنڈل بھی شامل ہیں۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا کی داخلہ کی قائمہ کمیٹی نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

سماجی کارکنان نے ٹوئٹر پر #JusticeForZainab ہیش ٹیگ بھی شروع کیا ہے۔

قصور کے علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران ایسے کئی دلخراش واقعات سامنے آ چکے ہیں جس میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے علاوہ ان کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیو بنا کر خاندانوں کو دھمکایا جاتا رہا ہے۔

قصور کا نام اس وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہوا تھا جب ضلعے میں 2015ء میں ایک ایسے گروپ کا انکشاف ہوا تھا جو کم از کم 280 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا چکا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG