اسحاق ڈار کے بعد ملک کو وزیر خزانہ کی ضرورت ہے: اقتصادی ماہرین

فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان کی طرف سے ملک کے وزیر خرانہ اسحاق ڈار کو چھٹی پر بھیجنے کی درخواست کی منظوری کے بعد اس وقت کوئی کل وقتی وزیر خزانہ نہیں۔

فی الحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہی کے پاس یہ منصب رہے گا تاہم مشاورت کے بعد وہ کسی اور کو وزارت خزانہ کا قلمدان سونپ سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار یہ کہتے رہے ہیں کہ اُن کے وزیر خزانہ کے دور میں پاکستان کی معیشت بحال ہوئی اور تیزی سے آگے بڑھنے کی ڈگر پر چلنا شروع ہوئی لیکن اب بھی ملک کو بہت سے معاشی چیلنج درپیش ہیں۔

ان حالات میں وزیر خزانہ کے رخصت ہونے سے ملکی معیشت پر کیا اثرات پڑیں اس بارے میں تجزیہ کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پر ایک کل وقتی وزیر خزانہ کا اعلان کرنا دینا چاہیئے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار قیصر بنگالی نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " اس وقت کوئی مخصوص شخص نہیں ہےجو ملک کے خزانہ کے امور کو دیکھ رہا ہے اس کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ایک غیر یقینی صورت حال ہے کیونکہ اکتوبر سے بجٹ بنانے کا کام شروع ہو گیا ہے اور کوئی وزیر خزانہ موجود نہیں تو ہے تو وزارت خزانہ کی بیورکریسی کو کوئی ہدایات نہیں مل رہیں اور یہ روزمرہ بنیاد پر ضروری ہوتی ہے۔"

تاہم تجزیہ کار عابد سلہری کا کہنا ہے کہ اب جبکہ اسحق ڈار نے بتا دیا ہے کہ ان کے لیے اپنا فرائض ادا کرنا ممکن نہیں ہے تو اس کی وجہ سے ایک غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

" جب اسحق ڈار اپنے علاج کے سلسلے میں جب ملک میں موجود نہیں تھے تو وزیر خزانہ موجود نہیں تھا۔ اب کم ازکم جب انہوں نے باضابطہ طور پر درخواست کر دی ہے کہ وہ اپنا فرائض ادا نہیں کر سکتے اس لیے انہیں رخصت دی جائے۔ تو اب اگر وزیر اعظم جو بھی عبوری انتظام کرتے ہیں کسی کو مشیر مقرر کرتے ہیں، کوئی ایڈوائزری کمیٹی بناتے ہیں تو وزارت خزانہ کے وہ فیصلے جو کرنے کی ضرورت تھی وہ ہونا شروع ہو جائیں گے۔"

واضح رہے کہ اسحاق ڈٓار کے خلاف ظاہر کیے گئے یا معلوم آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر اُن کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ جاری ہے، تاہم وہ اپنی صحت کی خرابی کے باعث لندن میں ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں اور اُنھیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے نیب عدالت میں ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں اُن کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔