ایتھیوپیا: مظاہرین اور حکومت کے درمیان جھڑپیں، متعدد افراد ہلاک

فائل

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں معاون ترجمان، مارک ٹونر نے ہفتے کی علی الصبح ایتھیوپیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کی اجازت دے اور متاثرین کی جائز شکایات کو حل کرنے کے لیے تعمیری مذاکرات کرے

ایتھیوپیا میں'اورومیا ' کے خطے میں مظاہرین اور حکومت کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپوں پر امریکہ نے اپنی' شدید تشویش' کا اظہار کیا ہے، جن کے نتیجے میں، بتایا جاتا ہے کہ متعدد مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں، جو کھیتی باڑی کی زمین کو کاروباری مقاصد کے لیے فروخت کرنے کی روش پر سیخ پا ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں معاون ترجمان، مارک ٹونر نے ہفتے کی علی الصبح ایتھیوپیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کی اجازت دے اور متاثرین کی جائز شکایات کو حل کرنے کے لیے تعمیری مذاکرات کرے۔

بیان میں احتجاج کرنے والوں پر زور دیا گیا ہے کہ تشدد سے گریز کیا جائے اور بات چیت شروع کی جائے۔

پچہتر افراد ہلاک

انسانی حقوق کی تنظیم، 'ہیومن رائٹس واچ' نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اُس کے پاس ثبوت موجود ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والی صورت حال میں 75 مظاہرین ہلاک ہوئے، جہاں سرکاری سکیورٹی افواج نے اُن پر گولیاں چلائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اِن جھڑپوں کے دوران، بہت سارے لوگ زخمی ہوئے۔

بیان میں ہیومن رائٹس واچ نے متبنہ کیا ہے کہ احتجاج کے خلاف حکومت کی مداخلت کے نتیجےمیں ملک میں بڑھتی ہوئی خونریزی کا خطرہ ہے۔

نومبر میں احتجاج کا آغاز ہوا۔ حکومت نے اب تک صرف پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مظاہرین دارالحکومت ادیس ابابہ سے باہر کھیتی باڑی کی زمین کو کاروباری علاقے میں تبدیل کرنے کے حکومتی منصوبے کے خلاف ہیں، اور تقریبا ً ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ہلاکتیں سلامتی افواج کے ساتھ جھڑپوں کے دوران واقع ہوئیں۔

پیر کے روز، ایتھیوپیا کی حکومت نے کہا تھا کہ احتجاج کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متنبہ کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

حزب مخالف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، جسے اُنھوں نے 30 بتایا۔