افغان تنازع کے حل کے لیے مؤثر پالیسی درکار ہے: تجزیہ کار

  • بہجت جیلانی

ننگرہار

پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، سمیع یوسف زئی نے کہا ہے کہ ’’افغانستان کی حکومت چاہتی ہے کہ امریکا پاکستان کو الگ رکھتے ہوئے افغانستان کے لئے حکمت عملی ترتیب دے، جبکہ امریکہ کے خطے کے لئے مخصوص تحفظات ہیں اور وہ پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا‘‘

اطلاعات کے مطابق، امریکہ مزید چار ہزار فوجی افغانستان بھیجے گا۔ پروگرام ’ہاں رنگ‘ میں افغان تجزیہ کار سمیع یوسف زئی اور پاکستانی امریکی تجزیہ کار محسن ظہیر نے صورتحال کا تجزیہ کیا۔

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت چاہتی ہے کہ امریکا پاکستان کو الگ رکھتے ہوئے افغانستان کے لئے حکمت عملی ترتیب دے، جبکہ امریکہ کے خطے کے لئے مخصوص تحفظات ہیں اور وہ پاکستان کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔

سمیع یوسف زئی کہتے ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی ٹھوس حکمت عملی ممکن ہوگی۔

محسن ظہیر کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے آیا فوجیوں کی تعداد میں اضافہ صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے خیال میں افغانستان کے لئے بنائی جانے والی پالیسی کے نتیجے میں وہاں 16 سال سے جاری لڑائی کو ختم ہونا چاہئے، تاکہ خطے کے مسائل حل ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ طالبان اور انتہا پسند عوامل کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے مصالحت کی کوششیں ضروری ہیں۔

تفصیل کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

Your browser doesn’t support HTML5

Tackling 16-year dispute requires devising of an effective Afghan policy: Analysts