’افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ ستائش‘

  • بہجت جیلانی

فائل

تجزیہ کار، بریگیڈئر (ر) عمران ملک نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور پاکستان کے مفادات مشترک ہوگئے ہیں، کیونکہ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، وہاں سے امریکی فوج کا انخلا عمل میں آئے

امریکہ کی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے لئے امن سمجھوتا طے کرتے وقت پاکستان کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ اُنھوں نے یہ بات امریکی سینیٹ میں مسلح افواج کی قائمہ کمیٹی کی سماعت کے دوران کہی۔

جنرل ووٹیل نے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے تناظر میں پاکستان کو امریکہ کے لئے اہم ملک قرار دیا۔ پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں تجزیہ کاروں سے یہ سوال کیا گیا آیا موجودہ صورتحال میں پاکستان واقعتاً امریکہ کے لیے اہم ہے، خاص طور پر جب وہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

دفاعی اور سیاسی کالم نگار اور تجزیہ کار، بریگیڈئر (ر) عمران ملک نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور پاکستان کے مفادات مشترک ہوگئے ہیں، کیونکہ دونوں ملک چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، وہاں سے امریکی فوج کا انخلا عمل میں آئے۔ لیکن، انخلا کے بعد ایک مستحکم افغانستان پیچھے رہے جس میں حکومت مضبوط ہو اور جس کا کنٹرول سارے ملک پر ہو۔ اور دونوں ملک اسی مقصد کے حصول کے لئے کوشاں بھی ہیں۔

تجزیہ کار، شمع جونیجو نے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرنے کے اعتراف کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی کوششوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ موجودہ رابطوں میں پاکستان کا کردار اتنا اہم ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اور، جیو سٹریٹجک تجزیہ کار، ڈاکٹر عاصم یوسف زئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے اپنی سب سے طویل جنگ لڑی ہے اور اب فوجوں کا انخلا بھی ضروری ہے۔ لیکن، اس کے لئے ضروری ہے کہ فوجوں کی واپسی کا عمل مرحلہ وار ہو اور تربیت اور اعانت کرنے والے دستے وہاں قیام کریں، تاکہ کسی دشوار صورتحال کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہو۔

گفتگو کا آغاز کر رہے ہیں بریگیڈئر (ر) عمران ملک۔ رپورٹ پیش ہے:

Your browser doesn’t support HTML5

JR comments, Pakistan-US relations