اورماڑہ: نیوی اہل کاروں سمیت 14 مسافر شناخت کے بعد قتل

فائل فوٹو

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں مسافر بسوں پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان نیوی نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کے کئی اہل کار بھی شامل ہیں۔ حملے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے ایک اتحاد نے قبول کر لی ہے۔

لیویز کے ایک افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسلح افراد نے کراچی سے گوادر جانے والی کئی مسافر بسوں کو اورماڑہ کے نزدیک بڑی ٹاپ کے مقام پر روکا۔

لیویز افسر کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد بعض افراد کو بسوں سے نیچے اتارا اور قطار میں کھڑا کرنے کے بعد گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

حملے میں 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن کی نعشیں اورماڑہ اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میتوں کو کراچی منتقل کرنے اور پھر وہاں سے ان کے آبائی علاقوں تک لے جانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور موٹر سائیکلوں پر بیٹھ کر قریبی پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرنٹیر کور اور دیگر اداروں کے اہل کار علاقے میں حملہ آوروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ

حملے کی ذمہ داری بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ ریپبلکن گارڈز پر مشتمل اتحاد 'بلوچ راجی آجوہی سنگر' (براس) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اتحاد کے ایک ترجمان بلوچ خان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ جن افراد کو نشانہ بنایا گیا ان کے پاس پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کے کارڈ تھے اور شناخت کے بعد ہی ان کو قتل کیا گیا۔

براس کے ترجمان نے پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سرکاری حکام کے ان دعووں کو بھی مسترد کیا ہے کہ اورماڑہ میں مسافروں کو قتل کیا گیا۔

اپنے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان کے عسکری حکام اپنے اہل کاروں کی ہلاکتوں کو چھپانے کے لیے میڈیا کے سامنے انہیں عام مسافر ظاہر کرتے رہے ہیں۔

'براس' بلوچی زبان میں بھائی کو کہتے ہیں۔ تینوں بلوچ عسکری تنظیموں کے رہنماﺅں نے گزشتہ سال ایک مشترکہ اجلاس میں یہ اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اجلاس میں آئندہ تمام عسکری کارروائیاں مل کر کر نے اور ان کی ذمہ داری بھی مشتر کہ طور پر قبول کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تشدد کے واقعات میں اضافہ

مکران ڈویژن سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسافروں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کرنے کی وارداتیں اس سے قبل بھی ہوتی رہی ہیں۔

اس طرح کے واقعات میں زیادہ تر نشانہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بنتے رہے ہیں۔

مکران کوسٹل ہائی وے گودار کو کراچی سے ملاتی ہے اور گوادر میں بندرگاہ فعال ہونے کے بعد اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں پر کام جاری ہونے کے سبب کوسٹل ہائی وے پر آمد و رفت بڑھ گئی ہے۔

بلوچستان میں چند ماہ تک امن رہنے کے بعد حالیہ عرصے کے دوران شدت پسندی کے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں ایک خودکش دھماکے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اورماڑہ میں پیش آنے والے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔