رائے عامہ جائزے، فوجی کارروائی کی مخالفت میں اضافہ

فائل

تاہم، اب بھی، دس میں سے چھ افراد کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں امریکہ کو کچھ کرنا چاہیئے تاکہ اس بات کی تائید ہو کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابلِ قبول نہیں
رائے عامہ کے دو نئے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شام پر فضائی حملوں کے حق میں دیے جانے والے دلائل کے خلاف ہیں۔

پیر کے دِن ’پیو ریسرچ سینٹر‘ اور ’یو ایس اے ٹوڈے‘ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ہفتے کے دوران فضائی حملوں کی مخالفت میں 15 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا، یعنی 63 فی صد لوگوں نے فوجی کارروائی کی تجویز کے خلاف رائے دی۔ اِن میں سے 45فی صد کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کارروائی کے ’سخت خلاف‘ ہیں۔

رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ 28 فی صد لوگ جو فضائی حملوں کے حق میں تھے، اُن کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں آیا۔

تاہم، اب بھی، دس میں سے چھ افراد کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں امریکہ کو کچھ کرنا چاہیئے تاکہ اس بات کی تائید ہو کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابلِ قبول نہیں۔

’سی این این‘ اور ’او آر سی انٹرنیشنل‘ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اور جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت فضائی حملوں کے خلاف ہے۔

رائے عامہ میں شامل 55 فی صد شرکا ٴ کا کہنا تھا کہ اگر امریکی کانگریس فوجی کارروائی کے حق میں کوئی قرارداد منظور کرتی ہے، تب بھی وہ ایسی مجوزہ کارروائی کے خلاف ہوں گے۔

ستر فی صد سے زائد شرکا کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائی کی مدد سے امریکہ اپنے کلیدی مفادات کے کوئی اہداف حاصل نہیں کرسکتا۔