رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں کیمیائی حملے سے ’عالمی سرخ لکیر‘ عبور کی گئی: امریکی وزیر ِ خارجہ


جان کیری کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقوں میں ہونے والے کیمیائی حملے میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس میں 426 بچے بھی شامل تھے۔

امریکی وزیر ِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی شام میں حملہ کرکے وہاں پر جاری خانہ جنگی کا حصہ نہیں بننا چاہتے بلکہ شام پر امریکی کارروائی کا مقصد صدر بشار الاسد کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف دوبارہ کسی ممکنہ کیمیائی حملہ کرنے سے روکنا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقوں میں ہونے والے کیمیائی حملے میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس میں 426 بچے بھی شامل تھے۔

امریکی وزیر ِ خارجہ کے نزدیک شام میں ہونے والے کیمیائی حملے سے ’عالمی سرخ لکیر‘ عبور کی گئی۔

پیرس میں اتوار کے روز عرب لیگ کے وزراء سے شام میں ممکنہ فضائی کارروائی کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک ملاقات کے بعد سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ امریکیوں اور کانگریس سے شام پر فوجی کارروائی کے لیے انہیں شام میں حملے کی وڈیوز بطور ثبوت دکھا رہی ہے۔

جان کیری کے مطابق ان وڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کیمیائی حملے میں عام لوگ اور بچے مارے گئے اور یہ ایک ایسا امر ہے جسے امریکہ نظر انداز نہیں کر سکتا۔

امریکی وزیر ِ خارجہ کا کہنا تھا کہ عرب حکومتیں اس بات پر اگلے 24 گھنٹے میں فیصلہ کر لیں گی کہ آیا انہیں شام پر ممکنہ امریکی حملے میں امریکہ کا ساتھ دینا چاہیئے یا نہیں۔

جان کیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیونکہ شامی صدر بشارالاسد نے کئی مرتبہ اپنے ہی لوگوں پر زہریلی گیس کا استعمال کیا ہے، اس لیے امریکہ، قطر اور اس کے بہت سے دیگر اتحادی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انہیں شامی صدر کو مستقبل میں دوبارہ کسی ایسے حملے سے باز رکھنے کے لیے کوئی اقدام اٹھانا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG