کولوراڈو سنیما شوٹنگ: ملزم کے لیےسزائے موت کا مطالبہ

استغاثہ نے گذشتہ ہفتے وکلائے دفاع کی اُس پیش کش کو مسترد کیا تھا جِس میں ہومز اقبال جرم کرنے کے بدلے سزائے موت سے بچ جاتا اور ضمانت کے بغیر عمر قید کی سزا کاٹتا
امریکہ کی کولوراڈو ریاست کے استغاثے نے گذشتہ برس سنیما ہال میں شوٹنگ کے واقع کے اُس ملزم کے لیے سزائےموت کا مطالبہ کیا ہے، جس واردات میں موقعے پر ہی 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

استغاثے نے یہ مطالبہ پیر کے روز عدالت میں سماعت کے دوران کیا، جِس پر جج نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ ملزم جیمس ہومز کےخلاف یہ مقدمہ برسوں تک جاری رہے گا۔

وکیل استغاثہ، جارج بروشلر نے کہا کہ اُنھوں نے ہومز کے خلاف سزائے موت کی استدعا اِس لیےکی ہے، کیونکہ اُنھوں نے ہلاک و زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کے 800ارکان کی دلی خواہش کو مد ِنظر رکھا ہے، جنھوں نے وکلا کی ٹیم سے گفتگو کی ہے۔ عدالت میں موجود مشتبہ شخص نے اِس بات پر بظاہر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

جج، ولیم سلویسٹر نے مقدمے کے آغاز کے لیے اگلے سال فروری تک کی مہلت دی، تاکہ کیس کی تیاری کے لیے وکلائے دفاع کے پاس درکار وقت میسر ہو۔

استغاثہ نے گذشتہ ہفتے وکلائے دفاع کی اُس پیش کش کو مسترد کیا تھا جِس میں ہومز اقبال جرم کرنے کے بدلے سزائے موت سے بچ جاتا اورضمانت کے بغیر عمر قید کی سزا کاٹتا۔

اُنھوں نے وکلائے صفائی پر الزام لگایا کہ وہ سودے بازی کےسمجھوتے کے معروف طریقے کا سہارا لے کر نجی طور پر معاملے کو سلجھانے کی جگہ کھلے عام سمجھوتے کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

استغاثے نے ہومز پر الزام لگایا کہ اُس نے 20جولائی کی شوٹنگ کی واردات کی باقاعدہ تیاری کر رکھی تھی اور ’دِی ڈارک نائیٹ رائزز‘ نامی بیٹ مین کی فلم کے رات گئے ہونے والے سنیما شو میں موجود فلم بینوں پر متعدد ہتھیار استعمال کرکےاُنھیں ہلاک و زخمی کیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ وکلائے دفاع ملزم کی دماغی حالت کو بہانا بنا کر جرم کا اقرار کرنے سے انکار کریں گے۔


شوٹنگ کے واقع میں بچ جانے والے شخص، مارکَس ویور نے، جو آج پیر کے دِن عدالت میں حاضر تھے، مقدمے کی طوالت پر اظہارِ تشویش کیا۔

اُن کے بقول، ’یہ کیا ماجرا ہے۔ واردات کا نشانہ بننے والے کے لیے یہ مایوس کُن بات ہے۔ مقدمہ چلانے کے لیےتقریباً ایک سال کی مہلت دینا، جب کہ فیصلے کا پہلے ہی پتا چل چکا ہے۔ تعجب ہے‘۔

قتل کی اِس المناک واردات کے بعد امریکہ بھر میں تشدد کی کارروائیوں میں اسلحےکے استعمال اور ذہنی مسائل کے شکار لوگوں کی اسلحے تک رسائی کےبارے میں عام مباحثے کا آغاز ہوا۔