امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں

لبنانی صدر مائیکل عون سے پومپیو کی ملاقات

ٹرمپ کی انتظامیہ نے دوبارہ سے ایران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور انہیں پہلے سے بھی سخت کیا جا رہا ہے، تاکہ ایران پھر سے معاہدے کے لئے بات چیت پر آمادہ ہو۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کے دن ایران پر نئی پابندیاں لگا دی ہیں، جب کہ اپنے دورہٴ لبنان کے دوران امریکی سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کی مذمت کی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق، یہ پابندیاں ایران کے 31 سائنسدانوں، ٹیکنیشنز اور ایران کی دفاعی ریسیرچ ادارہ، جو نیوکلئیر پروگرام میں بہت سرگرم ہے، سے متعلق کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بناتی ہیں جس میں ان کے کلیدی ماہرین شامل ہیں۔ ان پابندیوں میں 14 افراد، جن میں ادارے کے سربراہ بھی شامل ہیں اور 17 دیگر ضمنی کارروئیاں شامل ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت ان افراد یا کمپنیوں کے امریکہ میں تمام اثاثے منجمد ہو جائیں گے اور کوئی بھی امریکی ان سے لین دین نہیں کر سکے گا، بلکہ امریکی حکام کے لئے دوسری قومیتوں کے ایسے تمام افراد جو ان سے لین دین کریں گے خطرناک گردانے جائیں گے اور انہیں ثانوی حیثیت کی پابندیوں کے تحت امریکی سزائیں دی جا سکیں گی۔

یہ ثانوی پابندیاں غیر ملکی افراد یا کاروباری اداروں پر لگتی ہیں جن میں ان پر جرمانے، امریکی معیشیت سے اخراج، اثاثے منجمد ہونا اور سفری پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے جن افراد اور کمپنیوں پر نئی تعزیرات لگی ہیں انہیں ایران سے باہر سفر اور کاروبار کرنے میں دشواری ہو گی۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جو افراد بشمول سائنسدان، پروکیورمنٹ ایجنٹ اور تکنیکی ماہرین ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ہیں انہیں اس بات کی آگاہی ہونی چاہئے کہ وہ اس صورت میں کس قسم کے مالی اور ساکھ کے نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘‘

یہ اقدام ان افراد پر اس وجہ سے نہیں لیا گیا کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں بلکہ ان کے ماضی میں ایرانی جوہری پروگرام سے منسلک ہونے کی وجہ سے لیا گیا ہے۔ چونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ سے شروع کر سکتا ہے۔

ایران نے 2015 کی جوہری ڈیل کے بعد اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

مگر پچھلے برس امریکہ اس معاہدے سے باہر نکل آیا تھا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ درست نہیں ہے اور اس کے ذریعے ایران وقت کے ساتھ ساتھ اپنا جوہری پروگرام بہتر بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ نے دوبارہ سے ایران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور انہیں پہلے سے بھی سخت کیا جا رہا ہے، تاکہ ایران پھر سے معاہدے کے لئے بات چیت پر آمادہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا فیصلہ اسرائیل کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے بعد کیا گیا، جسے اسرائیل اور امریکہ خفیہ ریکارڈ کہہ رہے ہیں، جس کے مطابق، ایران نے ایک پلان ’’عماد پلان‘‘ کے مطابق اپنا جوہری پروگرام منجمد کر دیا ہے، تاکہ مناسب وقت پر اسے دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’جیسے کہ دنیا کو پتا چلا ہے ایرانی جوہری ریکارڈ سے، جن میں ان افراد کے بھی نام شامل ہیں جن پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ عماد پلان کے تحت ایرانی نیوکلئیر پروگرام کے بارے میں بہت سے سوال ابھی جواب طلب ہیں اور ان میں ایران کی جوہری میزائل لے جانے کی صلاحیت کے لئے کی گئی کوششوں کے متعلق بھی سوالات ہیں۔‘‘

یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی سیکریڑی خارجہ مائیک پومپیو بیروت کے دورے پر ہیں اور انہیں نے لبنانی حکام سے خطے میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اسے پالیسیاں بنانے اور لبنانی پارلیمنٹ کا حصہ ہونے کے باوجود اقتدار میں شراکت نہیں ملنی چاہئے۔