رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ گولان ہائیٹس پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرتا ہے: ٹرمپ


وزیر اعظم نیتن یاہو گولان ہائٹس کا دورہ کرتے ہوئے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ گولان ہائیٹس پر اسرائیلی اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتا ہے، جس شامی علاقے پر اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ لڑائی کے دوران کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

ٹوئٹر بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ گولان ہائیٹس ’’حکمتِ عملی کا حامل ایک اہم علاقہ ہے؛ جو اسرائیل کی ریاست کی سیکورٹی اور علاقائی استحکام میں خاصی اہمیت رکھتا ہے‘‘۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ابھی یروشلم میں ہیں۔ وہ پہلے اعلیٰ سطحی امریکی اہلکار ہیں جنھوں نے یروشلم کے مقدس شہر کی متنازع ’ویسٹرن وال‘ کا دورہ کیا ہے۔ دورے میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو اُن کے ہمراہ تھے۔

اس دورے سے یہ واضح اشارہ ملا کہ امریکہ اس شہر پر اسرائیلی کنٹرول کو تسلیم کرتا ہے۔ پھر فوری طور پر گولان ہائیٹس کو تسلیم کرنے کا ٹرمپ کا یہ خاص اعلان سامنے آیا۔

نیتن یاہو نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’گولان ہائیٹس‘ سے اسرائیل پر حملے کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اسی وجہ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری گولان پر اسرائیلی قیام کو تسلیم کرے، اور یہ حقیقت کہ گولان ہمیشہ اسرائیل کی ریاست کا ایک حصہ رہے گا‘‘۔

امریکی صدارتی اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے فوری طور پر ٹرمپ کے فیصلے کی تعریف کی۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد، نیتن یاہو نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ نے ایک تاریخ ساز بیان دیا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی حمایت پر ہم اُن کے انتہائی شکر گزار ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG