رسائی کے لنکس

logo-print

جاپان: ’اجتماعی بچاؤ‘ کے دفاع پر پابندی اٹھانے کا اعلان


کابینہ نے جاپان کے آئین کی شق 9 کی ازسرنو تشریح کی توثیق کردی، جس میں جنگ کی مذمت کی گئی تھی۔ نئی تفسیر کے مطابق، جاپان کی فوج کو ’اجتماعی بچاؤ‘ کے دفاع کا حق استعمال کرنے کی اجازت ہوگی

جاپان، جو اب تک جنگ عظیم دوئم کے بعد کی ُپرامن بقائےباہمی کی پالیسی کہ ’جنگ کا کوئی اخلاقی جواز نہیں‘ پر عمل پیرا رہا ہے، تاریخی اقدام کرتے ہوئےاپنی فوج پر سے پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کے روز کابینہ نےامریکہ کے تحریر کردہ جاپانی آئین کی شق 9 کی ازسرنو تشریح کی توثیق کردی، جس میں جنگ کی مذمت کی گئی تھی۔

نئی تفسیر کے مطابق، جاپان کی فوج کو ’اجتماعی بچاؤ‘ کے دفاع کے حق کے استعمال کی اجازت ہوگی۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ حملے کی صورت مین جاپان کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنے دوست ممالک کا دفاع کرے۔ اب اُسے اجازت ہوگی کہ وہ اقوام متحدہ کے امن کار مشنز میں وسیع تر شرکت کر سکے۔

وزیر اعظم شنزو آبے نے زور دے کر کہا کہ اس اقدام کا مقصد دفاعی نوعیت کا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ بہتر طور پر تیار رہنے سے یہ ممکن ہوگا کہ ایسے ممالک کے ارادوں کو ناکام بنایا جائے جو جاپان کے ساتھ جنگ کے خواہاں ہیں۔


بقول اُن کے، دنیا کے استحکام اور امن کی خاطر، جاپان اب تک کی جانے والی کوششوں کو تیز کرے گا۔ تاہم، کسی تنازعے کی صورت میں، اسے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی بجائے، بین الاقوامی قانون اور سفارت کاری سے حل کیا جائے۔

مسٹر آبے نے کہا کہ نئے ضابطوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جاپان لازمی طور پر بین الاقوامی فوجی کارروائیوں میں شرکت کرے گا، مثلاً امریکی قیادت والی عراق جنگیں۔

XS
SM
MD
LG