رسائی کے لنکس

بینظیر قتل کیس: سزا یافتہ پولیس افسران کی ضمانت منظور


بینظیر بھٹو کے قتل سے چند لمحات قبل کی ویڈیو سے لی گئی تصویر (فائل)

عدالت نے استفسار کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا؟ جس پر وکیل عابر غنیم نے کہا کہ اس وقت پورا ملک مشکل صورتِ حال سے دوچار تھا اور پوسٹ مارٹم ممکن نہیں تھا۔

پاکستان کی ایک عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں سزا یافتہ ملزمان اور سابق پولیس افسران سعود عزیز اور خرم شہزاد کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں منظور کرلی ہیں اور انہیں دو، دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی کے ڈویژن بینچ کے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس حبیب اللہ عامر نے بدھ کو سنایا۔

سابق پولیس افسران نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف درخواست ضمانت دائر کی تھی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے دونوں پولیس افسران کی درخواست ضمانت کے خلاف اور ملزمان کو سزائے موت دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

سابق پولیس افسران کی جانب سے انکے وکیل عابر غنیم بدھ کو عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ان کے موکل سابق ایس پی خرم شہزاد پر الزام ہے کہ انہوں نے کرائم سین دھلوایا۔

وکیل نے کہا کہ واقعے کے روز اے ایس پی کی بھی ڈیوٹی تھی لیکن انہیں کورال نواز شریف کی ریلی پر بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی ریکارڈ موجود ہے، سیکورٹی کے فرائض میں غفلت تھی تو اس کا ذمہ دار ایس ایچ او ہے۔

اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کرایا گیا؟ جس پر وکیل عابر غنیم نے کہا کہ اس وقت پورا ملک مشکل صورتِ حال سے دوچار تھا اور پوسٹ مارٹم ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا استغاثہ اور پیپلز پارٹی نے بھی پوسٹ مارٹم کی درخواست نہیں دی جب کہ ایس پی خرم شہزاد نے ایک گھنٹے چالیس منٹ کے بعد کرائم سین دھلوا دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ اس میں شرارت و ابہام موجود ہے۔ بیانات کو تبدیل کیا گیا، اسپتال میں لاش موجود ہے تو کبھی تصور کیا جا سکتا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے؟

پولیس افسران کے وکیل نے کہا کہ سابق سی پی او سعود عزیز نے ہی سب ملزمان کو گرفتار کیا۔ اگر وہ بی بی قتل میں ملوث ہوتے تو وہ ملزمان کو گرفتار کیوں کرتے؟

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی پارٹی آج اس نہج پر اس لیے پہنچی کہ ان کی عظیم قائد کو قتل کردیا گیا۔ سعود عزیز گوجرانوالہ میں سی پی او تھا جسے خاص طور پر راولپنڈی بلایا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرویز مشرف کی دھمکیوں کی کالیں بیرونِ ملک بینظیر کو آتی رہیں۔ بینظیر کو قتل کرنے میں مشرف نے ان پولیس افسران کو استعمال کیا۔

لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کے کمیشن نے بھی پاکستان کو ہی کہا کہ تحقیقات آپ خود کریں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ دفعات 120 بی اور 7 اے ٹی اے میں پولیس افسران کو سزائے موت دینی چاہیے۔ پرویز مشرف کو سائیڈ پر کرکے باقی ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمہے میں آٹھ ججز تبدیل ہوئے۔ آپ ہی بتائیں ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟ ٹرائل کورٹ نے خوفزدہ ہو کر ملزمان کو بری کیا ہے۔ پرویز مشرف، سعود عزیز اور خرم شہزاد نے دہشت گردوں کو بینظیر بھٹو تک پہنچنے کا راستہ فراہم کیا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور کچھ دیر بعد دونوں پولیس افسران کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں دو، دو لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

سماعت کے بعد لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں "اوپر کے اکابرین" شامل ہیں۔ پہلے لیاقت باغ کی ریکی کی گئی، اس کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی معاونت کا ثبوت پیش کیا۔ شواہد ضائع کرنے کے لیے کرائم سین کو اسی وقت دھو دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے سماعت اسپتال کا ایم ایس پیش ہوا اور اس نے کہا کہ سعود عزیز نے منع کیا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہ کیا جائے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے بیت اللہ محسود کی کیسٹ چلوا دی اور دو دن تک تفتیش ہی نہیں کی گئی۔ خود کش حملہ آوروں کو لایا گیا اور سہولت کاروں نے اس کا اعتراف بھی کیا۔ اتنے شواہد کے باوجود لگتا ہے عدالت نے خوف کے تحت فیصلہ دیا۔

بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسدادِ ہشت گردی کی عدالت نے پانچوں مرکزی ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ دو پولیس افسران کو سترہ، سترہ سال قید اور جرمانے کا حکم سنایا تھا۔

عدالت نے مقدمے کے ایک شریک ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ داخلِ دفتر کرتے ہوئے ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG