رسائی کے لنکس

logo-print

سندھی قوم پرست جماعت کے حامی پروفیسر کراچی ایئرپورٹ سے لاپتا


ڈاکٹر انعام بھٹی سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کی مہران یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں — فاٗئل فوٹو

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کی مہران یونیورسٹی کے پروفیسر اور قوم پرست جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے حامی پروفیسر انعام بھٹی مبینہ طور پر کراچی ائیرپورٹ سے لاپتا ہو گئے ہیں۔

خاندان کے افراد اور ان کے قریبی ساتھیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں سکیورٹی اداروں کے اہلکار لے گئے ہیں۔ تاہم پولیس کی جانب سے اس بارے میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

اہل خانہ کے مطابق پروفیسر انعام بھٹی تین اور چار ستمبر کی درمیانی شب حیدرآباد سے کراچی ایئرپورٹ پہنچے تھے جہاں سے انہوں نے ترکی کے شہر استنبول میں توانائی اور ماحول سے متعلق عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونا تھا۔

اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بورڈنگ پاس جاری کیے جانے کے بعد مطلع کیا گیا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہے جس کے باعث وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ جس کی اطلاع انہوں نے ایئرپورٹ کے باہر موجود اپنے بیٹے کو بھی دی لیکن انہیں ایئرپورٹ سے باہر بھی جانے نہیں دیا گیا۔

اہل خانہ نے مزید کہا کہ کئی گھنٹے پروفیسر انعام بھٹی سے ایئرپورٹ پر ہی پوچھ گچھ کی گئی جس کے بعد انہیں باہر لایا گیا اور پھر ڈبل کیبن گاڑی میں نامعلوم افراد انہیں لے گئے۔ جس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ سکیورٹی حکام کی جانب سے ان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس حوالے سے پروفیسر انعام بھٹی کی اہلیہ شگفتہ انعام نے بیٹے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر انعام بھٹی کو منتقل کرتے وقت سادہ لباس میں موجود افراد نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جبکہ نہ ہی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی ہے۔

شگفتہ انعام کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کی جان خطرے میں ہے۔ اگر اُن پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد اس بارے میں قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے وکلا سے مشورہ کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر انعام بھٹی سندھ کی سرکاری جامعہ مہران یونیورسٹی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے ڈائریکٹر، کیمیکل انجینئرنگ کے ماہر اور استاد ہیں۔

انعام بھٹی کے قریبی افراد انہیں قوم پرست نظریات سے متاثر بھی بتاتے ہیں۔ وہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی حمایت کرتے رہے ہیں جبکہ ماضی میں 'جئے سندھ قومی محاذ' (جسقم) جیسی سخت گیر قوم پرست جماعت کے بھی حامی رہے ہیں۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی رہنما زین شاہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پروفیسر انعام بھٹی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

'وائس آف امریکہ' سے بات کرتے ہوئے زین شاہ کا کہنا تھا کہ اگر انعام بھٹی کے خلاف الزامات ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

زین شاہ نے مزید کہا کہ پروفیسر انعام بھٹی سرکاری ملازم ہیں اگر وہ کسی تحقیقات میں مطلوب تھے تو انہیں طلب کرنا چاہیے تھا۔ یوں لاپتا کرنے سے قانون کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ ان کے اہل خانہ کو کرب اور تکلیف میں مبتلا کیا گیا۔

مہران یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی پروفیسر ڈاکٹر انعام بھٹی کی گم شُدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔

ٹیچرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پروفیسر انعام بھٹی کو جلد رہا کیا جائے ورنہ احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔

دوسری جانب اس بارے میں پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے کسی بھی ادارے کی جانب سے کوئی بھی بیان یا موقف سامنے نہیں آیا۔

پولیس حکام نے بھی واقعے کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا ہے۔

اس سے قبل بھی صوبے میں سیاسی طور پر سرگرم نوجوانوں کو لاپتا کرنے اور کئی روز تک بغیر کسی وارنٹ گرفتاری کے تفتیش کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں جبری گمشدگیوں سے متعلق معاملات پر سخت تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

انسانی حقوق اور جبری گمشدگی پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں تاہم ریاستی طور پر ان کی تردید کی جاتی ہے۔

جبری طور پر گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیشن کا قیام 2010 میں عمل لایا گیا تھا۔ جو چاروں صوبوں میں کام کر رہا ہے۔

حکام کے مطابق ملک میں جبری گمشدگی کے واقعات میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG