رسائی کے لنکس

’بھوک کرہ ارض کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے‘


موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب خشک سالی کا ایک منظر
موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب خشک سالی کا ایک منظر

واشگٹن ڈی سی۔ کرہ ارض پر آئندہ برسوں اور عشروں کے دوران اگر فوڈ ان سسکیورٹی یعنی عدم تحفظ خوراک کی صورت حال کا ایک جائزہ لیا جائے تو بیشتر متعلقہ عالمی اداروں کے مطابق، یہ منظر نامہ اگر بہت زیادہ تاریک نہیں تو کچھ زیادہ خوشگوار بھی نہیں ہے۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی، موسمی تغیرات کے سبب کہیں خشک سالی اور کہیں بارشوں اور سیلابوں کی شدت کے فصلوں پر منفی اثرات، کووڈ کی وباء اور اس کے دور رس اثرات اور اب یوکرین میں روس کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے معاملات کو بے یقینی کی صورت حال سے دو چار کردیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک یا ڈبلیو ایف پی کے مطابق شدید نوعیت کے عدم تحفظ خوراک کا سامنا کرنے والوں اور جن کو ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہو گی، ان کی تعداد 53 ملکوں اور علاقوں میں اس سال 222 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بھوک پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر عالمی معاشی بحالی کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے تب بھی 2030 تک 670 ستر ملین لوگوں یعنی دنیا کی آبادی کے آٹھ فیصد لوگوں کو بھوک کا سامنا ہو گا۔

متعلقہ عالمی اداروں کے مطابق 2050 تک دنیا کی موجودہ آبادی میں دو ارب مزید لوگوں کا اضافہ ہو چکا ہو گا۔ اور آج جو زراعت اور خوراک کی فراہمی کی صورت حال ہے وہ موجودہ آبادی کے لئے ہی ناکافی ہے تو اگر بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے وسائل میں اضافہ نہ ہو سکا تو غذائی عدم استحکام ساری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔

اور اسی لئے اقوام متحدہ نے دو ہزار تیس تک پائیدار ترقی یا ایس ڈی جی کے جو سترہ ہدف مقرر کئے ہیں ان میں بھوک کو ختم کرکے خوراک کے تحفظ اور غذائیت کے حصول کے ہدف کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ غذائی عدم تحفظ کے اسباب میں ایک سب سے بڑا سبب ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی خشک سالی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار پچاس تک دنیا کا پچہتر فیصد تک حصہ خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار سے اب تک خشک سالی کی شدت اور مدت میں پہلے ہی انتیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اور ماحولیات کے بحران کے سبب خشک سالی کی شدت میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ انکی مدت بھی بڑھ رہی ہے جو کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

خشک سالی کے ان واقعات میں1970ے 2019 کے دوران ساڑھے چھ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے۔1998ے 2017 کے درمیان خشک سالی کے سبب عالمی معیشت کو 124 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

یہ وہ چیلنجز ہیں جو غذائی عدم استحکام کے حوالے سے آج دنیا کو درپیش ہیں۔ اور بگڑتے ہوئے عالمی معاشی حالات اور اب یوکرین میں روس کی جنگ نے انہیں اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالات کا رخ درست سمت میں موڑنے کے لئے اگر عالمی سطح پر اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے دو سے تین عشروں میں دنیا وہ حالات دیکھ سکتی ہے جن کا آج تصور بھی مشکل ہے۔

XS
SM
MD
LG