رسائی کے لنکس

لیبیا،غزہ ، یمن ہر جگہ عرب شہری عرب لیگ سے ناامید کیوں؟


عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط، 31 مارچ 2019 کو تیونس میں گزشتہ عرب سربراہی اجلاس کے شرکا کے ساتھ ۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط، 31 مارچ 2019 کو تیونس میں گزشتہ عرب سربراہی اجلاس کے شرکا کے ساتھ ۔

واشنگٹن(ویب ڈیسک) جنگ اورفاقہ کشی سے تباہ حال یمن سے لے کر بحران میں مبتلا لیبیا تک، پوری عرب دنیا کے بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی امید نہیں ہے کہ ان کے ملکوں کو عرب لیگ کے یکم نومبر سے شروع ہونے والےسربراہی اجلاس سے کوئی فائدہ ہوگا۔

خبر رساں ادارے، رائٹرز نےمختلف عرب ملکوں کے شہریوں سےیہ جاننے کی کوشش کی ہےکہ عرب لیگ کےسربراہی اجلاس سے وہ کیا امید رکھتے ہیں?

عرب دنیا میں بیشتر لوگوں نے عرب لیگ کے آئندہ سربراہی اجلاس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کی میزبانی یکم نومبر سے الجزائر کررہا ہے۔

تنازعات کے شکار ان ملکوں میں بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں لیگ سے ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ یا تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔

دنیائے عرب میں ایک عام آدمی عرب لیگ کے اجلاس کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟

خانہ جنگی سے تباہ حال شام کے شہر دمشق میں موجود یوسف کا کہنا تھا کہ "شام میں جنگ کے آغاز سے ہی عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل تھی۔

’’ میرے خیال میں شامی حکومت نے گیارہ سال سے سربراہی اجلاسوں میں شرکت نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں یہ سربراہی اجلاس بھی گزشتہ سربراہی کانفرنسوں جیسا ہی ہوگا۔ شام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

شام میں اب بھی داعش کے ہزاروں جنگجو موجود
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:35 0:00

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے لبیا کے دارالحکومت طرابلس میں محمد احمد جبریل نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب لیگ نے 1945 میں اپنی بنیاد رکھنے کے بعد سے کوئی ایسا موقف اختیار نہیں کیا جس پر عرب عوام بھروسہ کر سکیں۔

وہ کہتے ہیں:

’’ اس کا موقف ہمیشہ ہی ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے اورزیادہ سے زیادہ جو اس نے کیا ہے وہ کچھ عرب ملکوں میں ہونےوالے مسائل کی مذمت ہے۔‘‘

جبریل کہتے ہیں عرب عوام کو سربراہی اجلاس سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں، چاہے وہ الجزائر میں ہو ،یا مستقبل میں ہونے والے اجلاس۔

لیبیا کے شہری، خالد الجتلوی کے خیال میں تو عرب لیگ کے کردار کی مکمل عدم موجودگی کوئی راز نہیں ہے:

’’یہ صورت حال نئی نہیں ہے، یہ عرب ممالک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور عرب مسائل اور خطے کے بحرانوں کے حل کے لیے آمادگی کے فقدان کی وجہ سے ہے۔‘‘

مصری شہری، ایمان یحییٰ،کو بظاہرلیگ کی افادیت کے بارے میں اس صورت میں کچھ امید ہے اگر وہ اپنے ایجنڈے کو معاشی اور تعلیمی مسائل پر مرکوز کرے۔

"اگر وہ تعاون کریں اور مل کر کام کریں تو ان مختلف مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔"

کیا یمن جنگ خطے کے دیگر ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:26 0:00

یمن کے دارالحکومت صنعاءمیں فوجی امور کے ماہر، بریگیڈیئر جنرل عبدالغنی الزبیدی نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئےکہا کہ عرب شہریوں کو کوئی امید نہیں ہے، اور اس (سربراہی اجلاس) سے ہماری کوئی توقع واابستہ نہیں ہے۔

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا :

’’ تاریخ میں عرب سربراہی اجلاس سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی ہے - لہذا اب کی بات تو چھوڑ ہی دیں، صورت حال ایسی ہو چکی ہے؛ ایک ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم جس کا یہ قوم ابتر حالات میں سامنا کر رہی ہے، ہر عرب ملک کے درمیان باہمی تعلقات کی سطح پر اور مکمل طور پر عرب عرب تعلقات کی سطح پر۔‘‘

یمنی صحافی ، رفعت الجمیل، کہتے ہیں:

’’جب سے ہم بڑے ہوئے ہیں، ، ہم عرب سربراہی اجلاس کے بارے میں سنتے رہے ہیں، "لیکن ہم نے اس میں کوئی مثبت چیز نہیں دیکھی۔ عرب سربراہی اجلاس کسی بھی عام فورم کی طرح کھیلوں کا ایک اور ٹورنامنٹ بن گیا ہے، اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ ہم یمنی اس (سربراہ اجلاس) سے کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم اس پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘

ایک دیرینہ تنا زعہ سے برسر پیکار فلسطینی کیا کہتے ہیں؟

رملہ کے رہائشی56 سالہ یوسف بایود کہتے ہیں، سب بے نتیجہ رہے۔

’’ 1948 سے لے کر آج تک، ہمارے پاس سینکڑوں عرب لیگ کے(سیشن) ہوئے جن میں سےکوئی بھی واضح موقف یا اعتراض سامنے نہیں آیا۔ وہ سب (اسرائیل کے ساتھ) تعلقات کو معمول پر لانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔‘‘

ایک اور فلسطینی، غزہ کے رہائشی،58سالہ عبداللطیف ابو عبد کہتے ہیں:

’’ہم ان عربوں سے کہتے ہیں جو الجزائر اورکسی بھی عرب ملک میں اجلاس کر رہے ہیں، براہ کرم ہمارے لیے محسوس کریں اور ہمارے لیے کوئی اچھا لفظ کہیں، محض ایک لفظ ہی۔ ‘‘

انہوں نے یہ کہتے ہوئے بہت سے فلسطینیوں کے جذبات کی ترجمانی کی کہ"تنقید کریں، مذمت کریں، اظہار کریں کہ نبلوس، جینین میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جائز نہیں ہے، براہِ کرم کہیں کہ ان لوگوں کوبھی جینے کا حق ہے‘‘۔

تاہم اردن کے شہر عمان میں محمد ارمان نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے عرب لیگ کے 31 ویں سربراہی اجلاس کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔

انشاللہ ہم عربوں کے موقف اور فیصلوں کے بارے میں پر امید ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمیں موجودہ بین الاقوامی حالات اور واقعات کے بعد پر امید رہنا ہوگا جو عرب قوم کے لیے فیصلوں کے متقاضی ہیں۔"

منگل کے اجلاس میں کونسے ملک شرکت کریں گے؟

الجزائر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں سترہ عرب رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان الجزائر میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

شامی وزیرِ خارجہ کی عرب لیگ پر کڑی تنقید
شامی وزیرِ خارجہ کی عرب لیگ پر کڑی تنقید

ذرائع نے مزید کہا کہ متوقع غیر حاضر عرب رہنماؤں کی تعداد "چھ" ہو گی۔

بن سلمان کی غیر موجودگی کا اعلان ہفتے کے روز ان کی الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کو فون کال کے دوران کیا گیا۔ سعودی ولی عہد کے حال ہی میں علیل ہونے کی اطلاع ملی تھی، اور شاہی ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے "سربراہی اجلاس کے لیے سفر نہ کرنے" کی سفارش کی ہے۔

سعودی حکومت نے ابھی تک سربراہی اجلاس میں بن سلمان کی غیر موجودگی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

اس اجلاس میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی شرکت متوقع ہے۔

دیگر شرکاء میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طحہ شامل ہیں۔

(یہ رپورٹ خبر رساں ادارے رائٹرز اوردیگر ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔)

XS
SM
MD
LG