رسائی کے لنکس

آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران کی ایک تجارتی جہاز کو پریشان کرنے کی کوشش


ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں۔ فائل فوٹو
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں۔ فائل فوٹو

امریکی بحریہ نے پیر کے روز بتایا ہے کہ اس کے ملاح اور برطانیہ کی رائل نیوی، اہم نوعیت کی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کی مدد کے لئے پہنچے جسے ایران کے پاسداران انقلاب نے پریشان اور خوفزدہ کیا تھا۔

امریکی بحریہ نے ایک بیان میں بتایا کہ اتوار کی سہ پہر پاسداران کے تین تیز رفتار چھوٹے جہاز جن پر مسلح فوجی سوار تھے مذکورہ تجارتی جہاز کے بالکل قریب پہنچ گئے۔

امریکی بحریہ نے ایسی بلیک اینڈ وہائٹ تصاویر پیش کیں، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ امریکی بحریہ کے ایک بوئنگ سے لی گئی ہیں۔ جس نے وہاں پرواز کی ۔ ان تصاویر میں تین چھوٹے جہاز ، تجارتی جہاز کے قریب نظر آتے ہیں۔

امریکہ بحریہ کا گائیڈڈ میزائیل بردار تباہ کن جہاز یو ایس ایس مک فال اور برطانیہ کی رائیل نیوی کا فریگیٹ ایچ ایم ایس لنکاسٹر اس مقام پر پہنچے، جب کہ لنکاسٹر سے ایک ہیلی کاپٹر نے بھی پرواز کی۔

اور امریکی بحریہ نے بتایا کہ کوئی ایک گھنٹے بعد اس وقت صورت حال معمول پر آگئی، جب تجارتی جہاز نے تصدیق کردی کہ کہ ہراساں کرنے والے جہاز وہاں سے چلے گئے۔ اور وہ معمول کے مطابق اس راستے سے گزرتا رہا۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور پاسداران انقلاب نے اس واقعے کا فوری طور پر اعتراف نہیں کیا ہے۔ اور اقوام متحدہ کے ایرانی مشن نے بھی فوری پر تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

دو ہزار اٹھارہ میں امریکہ کے یک طرفہ طور پر تہران کی ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے الگ ہو جانے کے بعد سے ایسے واقعات کے سلسلے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے، جس میں ایران ملوث ہے۔

آبنائے ہرمز

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج اومان کے درمیان ایک آبنائے ہے۔ اور خلیج فارس سے کھلے سمندر تک پہنچنے کے لئے واحد آبی گزرگاہ ہے۔ اور فوجی اعتبار سے ان انتہائی اہم فوجی مقامات میں سے ایک ہے جنہیں بند کرکے آبی ٹریفک کو روکا جا سکتا ہے۔ یہاں سے گزرنے والے جہاز ، اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق ایران اور سلطنت اومان کے سرحدی پانیوں سے گزرتے ہیں۔

یہ آبنائے اس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ کافی مقدار میں خام تیل اس گزر گاہ سے لیجایا جاتا ہے۔ اور کئی ممالک اپنی تیل کی ضروریات کے لئے بیشتر اسی راستے سے آنے والے تیل پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین،بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، اور سنگا پور شامل ہیں۔ اور مجموعی طور پر دینا کا بیس فیصد تیل اس راستے سے گزرتا ہے۔

اس لحاظ سے یہ آبی گزر گاہ پوری دنیا کے لئے انتہائی اہم ہے اور امریکہ کا موقف یہ ہے کہ چاہے یہ آبنائے ہرمز ہو یا جنوبی بحیرہ چین، اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق آزادانہ جہاز رانی کے حق کو برقرار رکھا جانا چاہئیے اور یہ کہ اس حق پر پابندی لگانے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔

XS
SM
MD
LG