رسائی کے لنکس

سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان،قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ


سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کے توازن اور استحکام کے لیے وہ آئندہ ماہ سے خام تیل کی پیداوار میں یومیہ 10 لاکھ بیرل تک کمی کر دے گا۔

سعودی وزارتِ توانائی کے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب نے پہلے خام تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کی تھی جب کہ اب مزید 10 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی سے مجموعی پیداوار میں 15 لاکھ بیرل کی کمی ہو جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گہا ہے کہ اس کمی پر عمل درآمد جولائی سے شروع ہو گا جب کہ اس میں توسیع کی جاتی رہے گی۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کے بعد سعودی عرب کی خام تیل کی یومیہ پیداوار 90 لاکھ بیرل یومیہ ہو جائے گی۔

سعودی عرب کا یہ فیصلہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے ویانا میں ہونے والے سات گھنٹےکے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ اوپیک تیل پیدا کرنے والے 13 ممالک کی تنظیم ہے جب کہ 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کو شامل کرکے اسے اوپیک پلس کا نام دیا جاتا ہے۔

اوپیک پلس میں شامل ممالک عالمی سطح پر خام تیل کی 40 فی صد پیداوار کرتے ہیں۔

اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 2024 کے آخر تک اوپیک پلس ممالک تیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل کی کمی کریں گے۔ البتہ سعودی عرب نے یک طرفہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پیداوار میں جولائی سے کمی لائے گا۔

امریکہ کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں یومیہ 10 کروڑ بیرل تیل کی پیداوار ہوتی ہے جب کہ سب سے زیادہ 20 فی صد پیداوار امریکہ کرتا ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب 12 فی صد، روس 11 فی صد، کینیڈا چھ فی صد اور چین پانچ فی صد تیل کی پیداوار کرتے ہیں۔

دوسری جانب اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ دنیا میں پیدا ہونے والے تیل کا سب سے بڑا حصہ یعنی 20 فی صد امریکہ استعمال کرتا ہے اس کے بعد چین 15 فی صد، بھارت پانچ فی صد، روس اور جاپان چار چار فی صد جب کہ سعودی عرب تین فی صد استعمال کرتے ہیں۔

نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ویانا میں اجلاس کے بعد سعودی عرب کے وزیرِ توانائی عبد العزیز بن سلمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ پیداوار کے لیے مقرر کیے گئے نئے اہداف مزید شفاف اور جائز بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو تیل کی پیداوار میں مزید کمی بھی کی جا سکتی ہے۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے بعد عالمی سطح پر اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ ملک کی معیشت محض تیل سپر انحصار کرنے کے بجائےمتبادل راستے اختیار کرے۔ اس لیے اس نے مختلف بڑے منصوبے شروع بھی کیے ہیں، جن کے لیے خطیر سرمایہ درکار ہے اس لیے سعودی عرب کی کوشش ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام رہے جس سے اس کے بڑے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم ہوتا رہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق سعودی عرب کو اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمت کم از کم 80.90 ڈالر فی بیرل درکار ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 75 سے 78 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہے۔

سعودی عرب نے صحرا میں ایک نیا شہر ’نیوم‘ بسانا شروع کیا ہے، اس منصوبے کی مجموعی لاگت 500 ارب ڈالرز بتائی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG