رسائی کے لنکس

logo-print

بیروت دھماکہ: اندرون ملک مظاہرے، بحالی کی غیر ملکی کوششیں


دھماکے کے مقام پر ایک بینر میں حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ 9 اگست 2020

اتوار کو عالمی لیڈروں نے ویڈیو لنک پر منعقدہ کانفرنس میں اتفاق کیا کہ بیروت میں دھماکے کے بعد بحالی کے لیے لبنان کو مناسب وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کس قدر رقم بھیجی جائے گی۔

فرانس کے صدر ایمونل میکران کی میزبانی میں ہونے والی اس ویڈیو کانفرنس میں کہا گیا کہ امداد بر وقت، معقول اور لبنانی عوام کی ضرورتوں کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ یہ امداد براہ راست لبنانی عوام تک پہنچائی جائے اور یہ کام انتہائی مستعدی اور شفاف طریقے سے کیا جانا چاہیے۔

عالمی لیڈروں نے اس بات پر خاص طور سے زور دیا کہ امداد کا استعمال شفاف طور پر ہونا چاہیے۔ لبنانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ حکومت بد عنوان ہے اور انہیں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے اثر و نفوذ سے بھی خطرہ ہے۔ اسی لیے عالمی لیڈر امداد کے استعمال کے بارے میں محتاط رویے کا اظہار کر رہے ہیں۔

فرانس کے صدر میکران نے جمعرات کو بیروت کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ویڈیو لنک پر ہونے والی کانفرنس میں شرکا سے کہا کہ اس وقت ہم سب کو اپنے اختلافات بھلا کر لبنانی عوام کی مدد کرنی چاہیے اور اقوام متحدہ کے ذریعے اس امداد کی ترسیل کو مربوط کیا جائے۔

امریکی صدر ٹرمپ سمیت عالمی لیڈروں نے دھماکے کی غیر جانبدار، آزاد اور شفاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے لبنان میں امن اور سکون کی اپیل کرتے ہوئے پر امن مظاہرین کے شفافیت، جواب دہی اور اصلاحات کے جائز مطالبے کو تسلیم کیا ہے۔

بیروت کی بحالی اور تعمیر نو پر اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔ ماہرین معاشیات کا اندازہ ہے کہ ملک کی 25 فی صد معیشت تباہ ہو چکی ہے۔

دریں اثنا، امریکہ نے ہنگامی بنیادوں پر خوراک، پانی اور ادویات کی ترسیل شروع کر دی ہے اور ابتدائی طور پر لبنان کے لیے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے۔

ہفتے اور اتوار کے روز بیروت میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ہفتے کو پولیس نے ہجوم کو پارلیمنٹ جانے سے روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

بعد میں پولیس کے ترجمان نے کہا کہ اس جھڑپ میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوا ہے۔

لبنان کی ریڈ کراس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایک درجن سے زیادہ زخمی مظاہرین کو اسپتال داخل کرایا گیا ہے، جب کہ متعدد زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔

مظاہرین نے وزارت خارجہ کی عمارت پر بھی پتھراو کیا۔ کچھ لوگ شہدا چوک پر جمع ہو کر حکومت مخالف نعرے لگانے لگے، مظاہرین نے اس ٹرک کو بھی آگ لگا دی، جو رکاوٹیں دوبارہ کھڑی کرنے لیے سامان لے کر جا رہا تھا۔

ملک کی سیاسی قیادت کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بد عنوان اور نا اہل ہے۔ منگل کو ہونے دھماکے میں کم از کم ایک 158 افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم حسن دیاب نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ قبل از وقت انتخاب کے لیے مسودہ قانون پیش کریں گے، اور وہ دو ماہ تک اپنے موجودہ عہدے پر رہتے ہوئے حزب اختلاف کو موقع دیں گے کہ وہ اپنی بنیادی اصلاحات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔

کتائب پارٹی کے سربراہ سمیع جمائل نے ہفتے کے روز اپنی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی تدفین پر جمع سوگواروں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے کے بعد ان کے حلیف، سہ جماعتی پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔

پروگریسو سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر ولید جمبلانی نے عرب میڈیا کو بتایا کہ قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا مطالبہ جائز ہے اور مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ عیسائی مظاہرین اور لیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ صدر مائیکل عون کی حمایت سے دست کش ہوتے ہیں یا نہیں۔

دوسری طرف بیروت میں امریکی سفارت خانے نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکی حکومت پرامن مظاہرے کے حق کی حمایت کرتی ہے اور مظاہرین پر زور دیتی ہے کہ وہ تشدد سے باز رہیں۔

سفارت خانے نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا کہ لبنانی عوام اس بات کے حقدار ہیں کہ ان کے لیڈرز ان کی بات سنیں، وہ جواب دہی اور شفافیت کے لیے عوامی مطالبات پر غور کریں اور ان کے جواب میں اپنا راستہ تبدیل کریں۔

حادثے کے باعث سوگ میں ڈوبے ہوئے شہر میں حکومت کے خلاف یہ پہلا عوامی احتجاج تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG