رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ریاست انڈیانا میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 8 افراد ہلاک


فائل فوٹو

امریکہ کی ریاست انڈیانا کے شہر انڈیانا پولس میں پولیس نے ایک کوریئر کمپنی 'فیڈ ایکس' کے احاطے میں فائرنگ سے آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ مسلح شخص نے فائرنگ کے بعد خود کشی کر لی ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق جمعے کی صبح پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقامی پولیس ترجمان جینی کک کا کہنا تھا کہ پولیس جب جائے وقوع پر پہنچی تو کوریئر کمپنی کے احاطے میں فائرنگ جاری تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ کم از کم چار افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے ایک شخص شدید زخمی ہے۔ دو افراد کو جائے وقوع پر طبی امداد فراہم کرکے روانہ کر دیا گیا تھا۔ جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا ہے۔

پولیس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ مسلح شخص کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور تفتیش کار اس حوالے سے معلومات جمع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مسلح شخص کوریئر کمپنی کا ملازم تھا یا نہیں۔

کوریئر کمپنی نے جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ وہ حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی انتظامیہ انڈیانا پولس ایئر پورٹ کے نزدیک فیڈ ایکس گراؤنڈ فسیلیٹی میں ہونے والے فائرنگ کے افسوس ناک واقعے سے آگاہ ہے۔ انتظامیہ کی اولین ترجیح سیکیورٹی ہے۔

جائے وقوع پر موجود ایک عینی شاہد جیریمیا ملر کے بقول اس نے ایک شخص کو سب میشن گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

سال 2021 میں فائرنگ کے بڑے واقعات

امریکہ میں 2020 کے دوران جہاں ایک جانب کرونا وبا عروج پر تھی وہیں فائرنگ کے بڑے واقعات میں کمی دیکھی گئی۔ تاہم رواں سال کے دوران متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔

صرف انڈیانا پولس ہی میں یہ شوٹنگ کا تیسر بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مارچ میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑے کے بعد مبینہ طور تین بالغ افراد اور ایک بچے کو قتل کردیا تھا۔ 25 جنوری 2021 کو بھی شوٹنگ کے ایک واقعے میں ایک حاملہ خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

’اے پی‘ کے مطابق امریکہ میں گن وائلنس سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے ’گن وائلنس آرکائیو‘ کے مطابق 2021 میں شوٹنگ کے 147 بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

اس ادارے کے مطابق ماس شوٹنگ ایسے واقعات کو قرار دیا جاتا ہے جن میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہوں۔

صدر بائیڈن کے گن وائلنس کے خلاف اقدامات
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:45 0:00

صدر بائیڈن کے گن وائلنس کے خلاف انتظامی اقدامات

رواں ماہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے گن وائلنس کی روک تھام کے لیے انتظامی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے گن وائلنس کو صحت عامہ کے لیے ایک وبا قرار دیتے ہوئے ان اقدامات میں سے کچھ کی تفصیلات جاری کی تھیں۔

ان انتظامی اقدامات میں امریکہ کے جسٹس ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک قانون یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ایسے نامعلوم چھوٹے ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکا جائے جن کا کوئی سیریل نمبر نہیں ہوتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ان کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔

تجویز کیا گیا ہے کہ جسٹس ڈپارٹمنٹ ایسے قوانین کا ماڈل جاری کرے گا جو کسی خاندان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اراکین کو عدالت میں یہ درخواست داخل کرنے کا حق دیں گے کہ اگر وہ عارضی طور پر خاندان کے کسی فرد کی جانب سے اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو ہتھیارکے استعمال سے خطرے میں محسوس کریں۔ تو ہتھیار تک خاندان کے اس فرد کی رسائی محدود کرنے کی درخواست دے سکیں۔

اس ماڈل کا مقصد امریکہ کی ریاستوں کو ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اپنے قوانین بنانے کے لیے ایک نکتہ آغاز فراہم کرنا ہے۔

نئی کوششوں میں ایک ہتھیاروں کی ٹریفکنگ کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کرنا اور کمیونٹی کی سطح پر چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے اقدامات تجویز کرنا ہے۔

صدر بائیڈن نے ایک سابق فیڈرل ایجنٹ اور گن کنٹرول کے حامی ڈیوڈ چپ مین کو امریکی بیورو آف فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسوز کا سربراہ بھی مقرر کیا ہے۔

ان انتظامی اقدامات کے اعلان کے موقعے پر وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ میں گن وائلنس سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد بطور قوم امریکی شناخت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG