رسائی کے لنکس

یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے پر پاکستان کے تحفظات


یروشلم کے قدیم شہر کی ایک تصویر جس میں بیت المقدس نمایاں ہے (فائل فوٹو)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو فلسطینی اور مشرق وسطیٰ کے راہنماؤں کو بتایا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنا کا ارداہ رکھتے ہیں جس کے بعد  امریکہ کے سفارت خانے کو  بھی وہاں متنقل کر دیا جائے گا۔

پاکستان نے یروشلم سے متعلق امریکہ کے ممکنہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زوردیا ہے کہ امریکہ کوئی ایسا اقدام نا اٹھائے جو 'بیت المقدس' کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مترداف ہو۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے بد ھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کا اقدام اس معاملےپر عالمی اتفاق رائے سے نہ صرف پہلو تہی کرنا ہے بلکہ اس کی وجہ سے علاقائی امن و سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے امکانات کو دھچکا لگے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو فلسطینی اور مشرق وسطیٰ کے راہنماؤں کو بتایا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنا کا ارداہ رکھتے ہیں جس کے بعد امریکہ کے سفارت خانے کو بھی وہاں متنقل کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے اگر امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتا ہے تو یہ اقدام نہ صر ف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے خطرناک صورت حال کا باعث بن سکتا ہے

انہوں نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینٹر راجہ ظفر الحق نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے معاملے میں مثبت کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا، "میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ صرف مشرق وسطیٰ یا عرب دنیا کا نہیں ہے۔۔۔ یہ عالمی امن کے لیے ایک مایوس کن صورت حال ہو گی۔ امریکہ اگر اپنا مثبت کردارادا کرے تو وہ انسانیت کی خدمت ہو گی لیکن اگر وہ اس طرح کے اقدمات کرتے ہیں تو یہ بہت تکلیف دہ (بات) ہو گی۔"

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ یروشلم کے مستقبل کا تعلق فلسطین کی ریاست کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "فلسطینوں کا موقف ہے کہ اس کا (یروشلم) کا مشرقی حصہ، جب بھی ان کی ریاست بنے گی اس کا دارالحکومت ہو گا اور اگر امریکہ اس کو (اسرائیل) کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ پورا یروشلم اسرائیل کا حصہ ہے۔ جو ظاہر ہے فلسطینوں اور دیگر مسلمان ملکوں کو قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس پر اسرائیل بھی اپنا دعویٰ رکھتا ہیں اور فلسطینی بھی دعویٰ کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا اور ان ملکوں میں اس فیصلے کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

"یہ تمام کی تمام ریاستیں اس فیصلے کی مذمت کریں گی۔ یہ یکطرفہ فیصلہ ہوگا۔ یعنی اسرائیل کا یکطرفہ فیصلہ ہے صرف جس کی امریکہ تائید کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جس کی وجہ سے ایسا کرنا کوئی دانش مندی نہیں ہو گی۔"

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اگر ایسا کرتے ہیں تو ان کے بقول اس سے مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں امریکہ کی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی صدارتی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیں گے۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ سمیت تقریباً تمام عالمی برداری یہ کہتے ہوئے اس موقف کو مسترد کرتی ہے کہ یروشلم کی حیثیت فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت میں طے ہونی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG