رسائی کے لنکس

سینیٹ میں ایک ایسا بل متعارف کروایا گیا ہے جس میں عرصہ دارز سے پاکستان کی جیلوں میں مختلف سنگین مقدمات میں قید افراد بے گناہ ہونے کی صورت میں سرکار کی طرف سے معاوضہ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

علی رانا

پاکستانی پارلیمان میں ان دنوں قانون سازی پر زور ہے اور سینیٹ میں ایک ہی دن میں مختلف قوانین میں ترامیم یا نئی قانون سازی کے لیے آٹھ مختلف تحاریک پیش کی گئیں ، بیشتر کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔

سینیٹ میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کا بل پیش کرنے کی تحریک سینیٹر روبینہ خالد نے پیش کی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کے مسائل ہم ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس بل کی مدد سے ان کے خلاف جرائم میں کمی آ سکے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے بل کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

سینیٹ میں ایک ایسا بل متعارف کروایا گیا ہے جس میں عرصہ دارز سے پاکستان کی جیلوں میں مختلف سنگین مقدمات میں قید افراد بے گناہ ہونے کی صورت میں سرکار کی طرف سے معاوضہ دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

یہ بل حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔

اس بل کے حق میں بات کرتے ہوئے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ماتحت عدالتوں کے بعد چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں بھی قتل جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد سے متعلق بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ جس طرح پوری دنیا میں کریمینل جسٹس سسٹم کے تحت مختلف عدالتوں سے بےگناہ قرار دیے جانے والے افراد کو حکومت کی طرف سے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے افراد کو معاوضہ دیا جائے کیونکہ جتنا عرصہ ایسے افراد نے جیل میں گزارا ہے اس کی کسی حد تک دادرسی کی جاسکے۔ حکومت نے اس بل کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد سینیٹ کے چیئرمین نے یہ معاملہ متعقلہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

سینیٹ اجلاس میں جادوگری کی ممانعت کا بل بھی پیش کیا گیا اور یہ بل حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری تنویر خان کی طرف سے پیش کیا گیا ۔اس بل کے حق میں بات کرتے ہوئے چوہدری تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سفلی عمل کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہیں۔

چوہدری تنویر نے کہا کہ ”شادی نہیں ہو رہی یا بیروزگاری سے چھٹکارایا محبوب آپ کے قدموں میں جیسے فقروں سے دیواریں بھری پڑی ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ مختلف مقامات پر جو بنگالی بابا بیٹھے ہیں انکے لیے مناسب قانون سازی ہونی چاہیے۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے اس بل کو متعقلہ کمیٹی کے سپر کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ متعلقہ کمیٹی اسلامی نظریاتی کونسل کا بھی نقطہ نظر لازمی لے۔

اجلاس میں سگریٹ نوشی کے تدارک، گلوبل ہنگرانڈکس،نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ ایکٹ اور پیمرا آرڈیننس میں ترامیم کی تحاریک پیش کی گئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG