رسائی کے لنکس

سعودی عرب: چار افراد کو دہشت گردی پر موت کی سزا


سعودی عرب میں شیعہ راہنما شیخ نمر النمر کو موت کی سزا دیے جانے کے خلاف بحرین میں شیعہ مسلمانوں کا مظاہرہ۔۔ جون 2016

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار افراد کو حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے، مسلح گروپس کے شامل ہونے اور پولیس اور سیکیورٹی گشت پر مامور اہل کاروں پر حملے کرنے کے إلزام میں سزا دی گئی۔

سعودی عرب نے ملک کے مشرقی حصے میں واقع علاقے قطف میں چار افراد کو دہشت گردی کے الزام میں موت کی سزا دے دی۔

سزا پر عمل درآمد کا اعلان منگل کے روز سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی وژن چینل نے وزارت داخلہ کے ایک بیان کے حوالے سے کیا۔

تیل پیدا کرنے والے مشرقی صوبے میں یہ سزائیں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب وہاں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں شیعہ کمیونٹی کے ارکان آباد ہیں۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار افراد کو حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے، مسلح گروپس کے شامل ہونے اور پولیس اور سیکیورٹی گشت پر مامور اہل کاروں پر حملے کرنے کے إلزام میں سزا دی گئی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ سزا پانے والے افراد شیعہ تھے یا وہ سنی مسلمان تھے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے کب اور کہاں حملے کیے تھے۔

موت کی یہ سزا پانے والے یہ افراد مشرقی صوبے کے ان 20 سے زیادہ لوگوں میں شامل ہیں جنہیں کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا گیا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ عمل درآمد کب ہوا۔

جنوری 2016 میں سعودی عرب نے ایک معروف شیعہ عالم اور القاعدہ کے کئی درجن ارکان کو موت کی سزائیں دی تھیں جن کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ چاہے کوئی سنی جنگجو ہو یا شیعہ، سعودی حکومت کسی کے ساتھ رعائت نہیں برتے گی۔

شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی موت کی سزا نے ملک کے مشرقی علاقے میں احتجاج مظاہروں کو ہوا دی۔ شیعہ کمیونٹی کاکہنا ہے کہ سعودی عرب شیعوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور انہیں حقوق نہیں دیے جا رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG