رسائی کے لنکس

logo-print

وینزویلا میں بجلی کا بحران، صورتِ حال مزید خراب


بجلی کی بندش پر وینزویلا میں حکومت کے خلاف مظاہرے کا منظر۔ 31 مارچ 2019

وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو نے اتوار کے روز سرکاری ٹیلی وژن پر قوم سے اپنے خطاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے 30 دن کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

ماڈورو نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ کے منصوبے کے مطابق حکومت ملک کے پانی اور مواصلات کے ڈھانچے کے لیے کام کرے گی۔

بجلی کی قلت کے باعث ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جن میں لوگوں نے سڑکوں پر کوڑا کرکٹ جلایا اور صدر ماڈورو کے خلاف نعرے لگائے۔

نلکوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے لوگ ہینڈ پمپ استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یکم اپریل 2019
نلکوں میں پانی نہ آنے کی وجہ سے لوگ ہینڈ پمپ استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یکم اپریل 2019

اپنی تقریر مین ماڈورو نے کہا کہ 30 دن کی لوڈشیڈنگ کے دوران اسکول بدستور بند رہیں گے اور دفتری اوقات میں کمی کی جائے گی تاکہ بجلی کی بچت کی جا سکے ۔

ایک خاتون خانہ کارکرس نے میڈیا سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس طرح کی صورت حال کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ میں چکن خریدنے کے لیے رقم لینے بینک کی مشین پر گئی لیکن وہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند تھی۔آپ فون کے ذریعے ادائیگی نہیں کر سکتے۔ آپ کا کریڈٹ کارڈ کام نہیں کر رہا۔ آپ کچھ کھا پی بھی نہیں سکتے۔

بجلی کی بندش سے کاروبار زندگی معطل ہو گئے۔ یکم اپریل 2019
بجلی کی بندش سے کاروبار زندگی معطل ہو گئے۔ یکم اپریل 2019

​ایک اور خاتون خانہ نے بتایا کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں فریج میں نہیں رکھ سکتی۔ بجلی کی اچانک بندش کے واقعات سے اس کے برقی آلات خراب ہو گئے ہیں۔

صدر ماڈورو نے اس صورت حال کا ذمہ دار امریکہ کو ٹہرایا ہے۔

حزب اختلاف کے لیڈر گواڈو نے کہا ہے کہ اس خرابی کی وجہ حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی ہے ان کے بقول بجلی کے نظام میں خرابی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کرپٹ اور نااہل ہے ۔

امریکہ اور پچاس دوسرے ملکوں نے متنازع انتخابات کے بعد گواڈو کو ملک کا صدر تسلیم کر لیا تھا۔ جب کہ اپنے عہدے پر موجود صدر ماڈورو کی جانب سے اپنا عہدہ نہ چھوڑنے پر امریکہ نے ان کی حکومت کے خلاف کئی پابندیاں لگا دی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG