رسائی کے لنکس

logo-print

'ایک دن ہمارے بغیر': میکسیکو میں خواتین کا انوکھا احتجاج


میکسیکو میں ایک خاتون نے بینر اٹھایا ہوا ہے جس پر تحریر ہے کہ 'ہمیں قتل نہ کریں'

میکسیکو اور ارجنٹائن میں لاکھوں خواتین صنفی تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک دن کے لیے دفاتر، درس گاہوں اور سرکاری اداروں سے غیر حاضر رہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق خواتین نے سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس ایک روزہ احتجاج کو ' ایک دن ہمارے بغیر' کا نام دیا گیا تھا جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ اگر خواتین معاشرے کا حصہ نہ ہوں تو یہ معاشرہ کیسا ہو گا۔

میکسیکو میں اس ہڑتال کی وجہ خواتین کو لاپتا یا اغوا کر کے قتل سمیت صنفی بنیادوں پر نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کی جانب حکومت کی توجہ دلانا تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں خواتین کو صنفی بنیادوں پر نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں گزشتہ پانچ سال میں 137 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

عالمی یوم خواتین پر بھی بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر اپنے حقوق کے لیے نکلی تھیں۔ لاطینی امریکہ میں اس قدر بڑی تعداد میں خواتین کا سامنے آنا ایک غیر متوقع اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں خواتین کو صنفی بنیادوں پر نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں گزشتہ پانچ سال میں 137 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق میکسیکو میں خواتین کو صنفی بنیادوں پر نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں گزشتہ پانچ سال میں 137 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

خواتین کا مطالبہ تھا کہ اُنہیں اسقاط حمل کا حق دیا جائے جب کہ وہ پرتشدد کارروائیوں کے خاتمے پر بھی زور دے رہی تھیں۔

پیر کو کی جانے والی ہڑتال میں خواتین نے دفاتر، جامعات اور سرکاری اداروں سے غیر حاضر رہنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس پر جزوی عمل ہوتا نظر آیا۔

میکسیکو شہر کے نواح میں رہنے والی 45 سالہ الما ڈیلیا ڈیاز کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل نشانہ بننے سے تھک چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ مستقل نامناسب رویہ روا رکھا جاتا ہے جب کہ ہم زیادتی کا نشانہ بھی بنتی ہیں۔

خواتین نے دفاتر، جامعات اور سرکاری اداروں سے غیر حاضر رہنے کا اعلان کیا تھا۔
خواتین نے دفاتر، جامعات اور سرکاری اداروں سے غیر حاضر رہنے کا اعلان کیا تھا۔

الما ڈیلیا ڈیاز نے یہ سلسلہ ختم کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے پر ان کا بھر ساتھ دیتی ہیں تاہم وہ اپنے کام سے چھٹی نہیں کر سکتیں۔

الما ڈیلیا ڈیاز خواتین کی ہڑتال کے دن بھی کام پر موجود تھیں۔

میکسیکو کے صدر انڈریس مانوئل لوپیز کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو آزادی ہے کہ وہ اس ایک روزہ ہڑتال کا حصہ بنیں اور کام پر نہ آئیں۔

تاہم انڈریس مانوئل نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ میکسیکو کے امن عامہ کے مسائل کو وجہ بنا کر ان کی انتظامیہ کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG