رسائی کے لنکس

logo-print

محمود عباس دوبارہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سربراہ منتخب


محمود عباس اجلاس میں شریک ہیں۔

'پی ایل او' مختلف فلسطینی تنظیموں کا نمائندہ اتحاد ہے جس میں صدر عباس کی 'الفتح' پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ 'پی ایل او' کو بین الاقوامی برادری میں فلسطینیوں کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس ایک بار پھر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سربراہ منتخب ہوگئے ہیں۔

محمود عباس کا انتخاب مغربی کنارے کے شہر راملہ میں جاری 'پی ایل او' کی پارلیمان 'فلسطین نیشنل کونسل' کے چار روزہ اجلاس کے آخری دن جمعے کو عمل میں آیا۔

اجلاس کے بعد سینئر فلسطینی رہنما نبیل شعث نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ محمود عباس کو کونسل نے متفقہ طور پر پی ایل او کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

'پی ایل او' مختلف فلسطینی تنظیموں کا نمائندہ اتحاد ہے جس میں صدر عباس کی 'الفتح' پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ 'پی ایل او' کو بین الاقوامی برادری میں فلسطینیوں کی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس اتحاد میں 'الفتح' کی روایتی حریف اور فلسطینی علاقے غزہ پر حکمران اسلام پسند جماعت 'حماس' شامل نہیں ہے۔

گزشتہ 22 برسوں میں فلسطین نیشنل کونسل کا یہ پہلا باقاعدہ اجلاس تھا جس میں کونسل نے 82 سالہ محمود عباس کے ساتھ ساتھ ایگزیکٹو کمیٹی اور ایگزیکٹو کونسل کے ارکان کا بھی انتخاب کیا۔

ایگزیکٹو کمیٹی 'پی ایل او' کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جو عملاً صدر محمود عباس کی کابینہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس بار کونسل کے 15 ارکان میں سے نو پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔

نئی ایگزیکٹو کمیٹی میں سے صدر عباس کے کئی مخالفین کو نکال دیا گیا ہے۔ ماضی میں کمیٹی 18 ارکان پر مشتمل ہوتی تھی لیکن اس بار صرف 15 ارکان منتخب کیے گئے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تین نشستیں 'حماس' اور فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے والی دیگر دو چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں کے لیے خالی چھوڑی گئی ہیں۔

حماس اور صدر عباس کی الفتح کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والا مفاہمتی معاہدہ ناکام ہونے کے بعد حماس نے 'پی این سی' کے اجلاس کا انعقاد مسترد کردیا تھا۔

محمود عباس کے عہدۂ صدارت کی مدت 2009ء میں مکمل ہوگئی تھی لیکن حماس کے ساتھ جاری محاذ آرائی کے باعث صدارتی انتخابات کا انعقاد تاحال نہیں ہوسکا ہے۔

رواں ہفتے کونسل کے افتتاحی اجلاس سے اپنے خطاب میں صدر عباس نے کہا تھا کہ یورپ میں یہودیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ خود ان کا رویہ تھا۔

صدر عباس کے اس بیان کی اسرائیل، یورپی یونین، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے یہود مخالف قرار دیا تھا۔

تاہم جمعے کو کونسل کے اختتامی اجلاس سے اپنے خطاب میں محمود عباس نے اپنی تقریر پر کی جانے والی تنقید کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG