رسائی کے لنکس

logo-print

کرپشن کا الزام، افغان کرکٹر شفیق اللہ شفق پر 6 سال کی پابندی عائد


شفیق اللہ شفق

افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے 'اینٹی کرپشن کوڈ' کی خلاف ورزی کرنے پر کرکٹر شفیق اللہ شفق پر 6 سال کی پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی کے دوران وہ کسی بھی قسم کی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔

وکٹ کیپر بیٹسمین شفیق اللہ شفق پر اینٹی کرپشن کوڈ کی چار شقوں کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ شفیق اللہ نے ان الزامات کا اعتراف کرلیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق شفیق پر یہ الزامات 2018 میں 'افغانستان پریمیر لیگ' کے تحت ہونے والے پہلے ایڈیشن کے دوران لگائے گئے تھے۔

اے سی بی کا کہنا ہے کہ شفیق اللہ نے ناصرف افغان پریمیئر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کی۔ بلکہ 'بنگلہ دیش پریمیئر لیگ' کے دوران ساتھی کرکٹرز کو بھی فکسنگ پر اکسایا۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق شفیق اللہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے بورڈ سے تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ شفیق اللہ نے 2018 میں 'ننگرہار لیپرڈز' اور 2019 میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں 'سلہٹ ٹھنڈر' ٹیموں کی نمائندگی کی تھی۔

شفیق اللہ نے اپنے کرکٹ کیرئر کا آغاز 2009 میں کیا تھا۔ وہ اب تک 24 ایک روزہ انٹرنیشنل اور 46 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے سینئر اینٹی کرپشن مینیجر سید انور شاہ قریشی نے اس حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک سینئر کھلاڑی کا بدعنوانی میں ملوث ہونا انتہائی سنگین جرم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شفیق اللہ شفق کو ملنے والی سزا ان تمام کھلاڑیوں کے لئے انتباہ ہے۔ جو یہ سوچتے ہیں کہ ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کا علم اے سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو نہیں ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شفیق اللہ کے اعتراف جرم اور تعاون کی یقین دہانی نے انہیں طویل عرصے کی پابندی سے بچالیا ہے۔

شفیق اللہ اے سی بی کے تربیتی پروگراموں میں بھی شرکت کے پابند ہوں گے۔ جن کا کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو ان کی غلطیوں سے سیکھنے میں مدد کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG