رسائی کے لنکس

افغانستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر قاتلانہ حملے میں زخمی


افغانستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر صبا سحر کو چار گولیاں لگیں جس کے باعث وہ کوما میں تھیں۔

افغانستان کی پہلی فلم ڈائریکٹر اور اداکارہ صبا سحر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئی ہیں۔

منگل کو کابل میں حملے کے بعد دوران علاج وہ کوما میں چلی گئی تھیں جس کے 20 گھنٹے بعد بدھ کی صبح اُنہیں ہوش آیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق تین نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے صبا سحر کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ کار میں سوار تھیں۔

اداکارہ صبا کے ہمراہ اُن کا ڈرائیور اور دو محافظ بھی تھے۔ فائرنگ سے وہ اور ان کے محافظ زخمی ہو ئے جب کہ بچہ اور ڈرائیور محفوظ رہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

صبا سحر کے شوہر ایمل ذکی نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ صبا کے پیٹ میں چار گولیاں لگیں جس کے بعد وہ کوما میں تھیں اور تقریباً 20 گھنٹے بعد انہیں ہوش آیا ہے۔

اُن کے بقول صبا کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

صبا سحر فلم ڈائریکٹر اور اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تربیت یافتہ سینئر پولیس افسر بھی رہ چکی ہیں۔

وہ اب تک کئی دستاویزی اور فیچر فلمیں بنا چکی ہیں۔

صبا سحر طالبان کی شدید ناقد بھی ہیں اور قدامت پسند مردوں کے سماجی و سیاسی کرداروں پر بھی تنقید کرتی رہی ہیں۔

صبا 10 سال سے زائد عرصے سے محکمۂ پولیس میں خدمات انجام دیتی آ رہی ہیں اور حال ہی میں ان کا تقرر صنفی امور کی نگرانی کرنے والی خصوصی پولیس فورس میں کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG