رسائی کے لنکس

logo-print

'محض ایک ماہ کی توسیع افغان پناہ گزینوں کے ساتھ زیادتی ہے'


فائل فوٹو

پناہ گزینوں کے قیام کی مدت 31 دسمبر 2017ء کو ختم ہو گئی تھی اور گزشتہ ہفتے ہی پاکستانی حکومت نے اس میں صرف ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے اپنے ہاں موجود افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں محض ایک ماہ کی توسیع پر جہاں افغان حکومتی عہدیدار تحفظات کا اظہار کر رہے وہیں پناہ گزین بھی اس تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس قدر قلیل وقت میں ان کی وطن واپسی تقریباً ناممکن ہے۔

سرکاری اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں لگ بھگ 20 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں جن میں سے 13 لاکھ سے زائد باقاعدہ اندراج کے ساتھ قانونی طور پر جب کہ 6 لاکھ کے لگ بھگ بغیر قانونی دستاویزات کے ملک کے مختلف حصوں میں مقیم ہیں۔

پناہ گزینوں کے قیام کی مدت 31 دسمبر 2017ء کو ختم ہو گئی تھی اور گزشتہ ہفتے ہی پاکستانی حکومت نے اس میں صرف ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا تھا جب کہ قبل ازیں چھ ماہ تک کی توسیع کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

پناہ گزینوں کے ایک رہنما ہبت اللہ پشتون نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایک ماہ کی توسیع کو افغان پناہ گزین اپنے ساتھ زیادتی تصور کرتے ہیں اور اس اعلان کے بعد سے ان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے مقیم پناہ گزینوں کا پاکستان میں کاروبار اور جائیدادیں ہیں اور ان معاملات کو سمیٹنے کے لیے بہت وقت درکار ہے جب کہ غریب پناہ گزینوں کے لیے تو مشکلات اور بھی زیادہ ہیں۔

"جن کا کاروبار نہیں ہے وہ روزانہ کی اجرت پر کام کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے پانچ چھ سو روپے کماتے ہیں۔ ان کے لیے بہت مسئلہ ہے۔۔۔ ایک ملک سے دوسرے ملک آدمی جاتا ہے، ادھر گھر منتقل کرتا ہے۔ اس طرح کے لوگ ہیں جن کے پاس گاڑی کا کرایہ نہیں کہ سامان اٹھایا اور چل پڑے۔ اُدھر گھر بنانا، کمرہ بنانا اور بچوں کے لیے رزق پیدا کرنا یہ بہت مشکل ہے۔"

ہبت اللہ کے بقول یو این ایچ سی آر کی طرف سے رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے پناہ گزینوں کے لیے امداد کی کمی بھی ان افغانوں کے لیے ایک بڑی مشکل ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین 'یو این ایچ سی آر' نے گزشتہ سال وسائل کی کمی کے باعث واپس جانے والے پناہ گزینوں کو 400 ڈالر کی بجائے 200 ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر اپنے ہاں مبینہ طور پر واقع دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ کے تناظر میں بظاہر افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں چھ ماہ کی بجائے ایک ہی ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

اس تاثر کی وجہ پاکستانی عہدیداروں کے وہ بیانات ہیں جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گرد افغان پناہ گزین بستیوں میں چھپے ہوتے ہیں جن کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی میں پاکستان کو مشکلات درپیش ہیں۔ لہذا افغان پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپس چلے جانا چاہیے۔

منگل کو ہی پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے اس موقف کو دہرایا۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں جب ان سے افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں کسی ممکنہ توسیع کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے کچھ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے۔

"ہمارے اندازوں کے مطابق دہشت گرد اور جہادی گروپوں کی باقیات ان پناہ گزین کیمپوں کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو ہمارے لیے بہت مشکل صورتحال ہے کیونکہ ہم کسی بھی طرح پناہ گزین کیمپوں میں کسی طرح کا آپریشن نہیں کرنا چاہتے، لہذا ہم پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اور باوقار وطن واپسی چاہتے ہیں تاکہ ان کیمپوں کو کلیئر کروا کر ہم دنیا کو یہ بتانے کے قابل ہو سکیں کہ پاکستان نے دہشت گرد اور جہادی گروپوں کی باقیات کو بھی ختم کر دیا۔"

اس تاثر کے بارے میں ہبت اللہ پشتون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔

"ادھر جو افغان مہاجر رہتا ہے پاکستان میں یہ سیاست میں ملوث نہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں جو سیاست ہے اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی جو بھی کسی اور ملک کے ساتھ ہے اس میں ان غریب لوگوں کو کوئی تعلق نہیں۔"

افغان صوبے سرِپُل سے تعلق رکھنے والے ہبت اللہ گزشتہ 38 برسوں سے پاکستان میں ہیں۔

ادھر پناہ گزینوں اور ان کی بحالی سے متعلق افغان وزیر سید حسین علیمی بلخی نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں توسیع کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کا کہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG