رسائی کے لنکس

logo-print

افغان مہاجرین کی وطن واپسی تین ماہ کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع


افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل گزشتہ سال دسمبر میں معمول کے مطابق موسمِ سرما کے سبب روک دیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کی اُن کے آبائی وطن واپسی کا عمل یکم مارچ سے دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل گزشتہ سال دسمبر میں معمول کے مطابق موسمِ سرما کے سبب روک دیا گیا تھا۔

’یو این ایچ سی آر‘ کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اضاخیل جب کہ بلوچستان کے بلیلی مراکز سے افغان مہاجرین کی واپسی شروع کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں 14 لاکھ اندارج شدہ افغان پناہ گزین موجود ہیں جب کہ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 13 لاکھ ایسے افغان بھی ملک میں مقیم ہیں جن کے کوائف کا اندارج نہیں ہے۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق کے مطابق 2002ء سے اب تک 43 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

پاکستان میں ’یو این ایچ سی آر‘ کے نمائندے ریویندری مینکیویلانے کا کہنا ہے کہ اُن کا ادارہ افغان مہاجرین کی رضا کارانہ، محفوظ، مرحلہ وار اور باعزت واپسی کے لیے پر زور دیتا رہے گا۔

اُنھوں نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کی میزبانی کو سراہتے ہوئے بین الاقوامی برداری سے کہا کہ وہ افغان مہاجرین اور اُن کی میزبانی کرنے والی پاکستانی آبادیوں کی مدد کرے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے لیے ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی افغان مہاجرین کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا تھا۔

پاکستان کی کابینہ نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی برداری سے کہا تھا کہ وہ افغان مہاجرین کی احسن طریقے سے واپسی اور اُن کی اپنے ملک میں بحالی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔

حکومت کی طرف سے اندراج شدہ افغان مہاجرین کو قیام کی دی گئی موجودہ مہلت 31 مارچ کو ختم ہوجائے گی۔

تاہم پاکستان کے وزیر برائے سرحدی امور عبدالقادر بلوچ نےحال ہی میں قومی اسمبلی میں اپنے ایک تحریری جواب میں کہا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں 30 جون 2018ء تک توسیع کی منظوری حکومت کے زیرِ غور ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG