رسائی کے لنکس

ویزہ کے باوجود پاکستان میں داخلے پر پابندی کا الزام، طالبان نے احتجاجاََ طورخم سرحد بند کر دی


فائل فوٹو

افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ مصروف ترین سرحدی گزرگاہ طورخم کو پہلی بار جمعرات کی صبح دو طرفہ تجارت اور ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

سرحد کی بندش پر افغان طالبان یا پاکستان کے حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ طورخم میں تاجروں اور دیگر کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ طالبان نے سڑک پر کنٹینر رکھ کر سرحدی گزرگاہ کو احتجاجاََ بند کیا ہے جس کے بعد پیدل آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیرِ اعظم ملا محمد حسن اخوند نے ایک روز قبل ہی روس، چین اور پاکستان کے افغانستان کے لیے مقرر خصوصی نمائندوں سے مشترکہ ملاقات کی تھی جس میں ملا محمد حسن اخوند نے پاکستان کے افغانستان کے نمائندہٴ خصوصی محمد صادق خان سے کہا تھا کہ پاکستان طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں پر دوطرفہ آمد و رفت کو آسان بنانے کے علاوہ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی مشکلات آسان کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

طورخم میں مقیم افغان تاجر احمد شاہ نے وائس آف امریکہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے یہ اقدام جمعرات کی صبح اس وقت کیا جب پاسپورٹ اور ویزہ رکھنے والے افغان باشندوں کو پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

احمد شاہ کے بقول طالبان نے پاکستان کے حکام کو بتایا کہ بغیر پاسپورٹ اور ویزہ افغان باشندوں کو بھاری رشوت کی ادائیگی کے عوض پاکستان آنے دیا جاتا ہے مگر پاسپورٹ اور ویزہ رکھنے والوں کو روکا جا رہا ہے جس سے انہیں مشکلات پیش آ رہی ہے۔

پاکستان میں حکام کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے مطابق طورخم کی سرحدی گزرگاہ کو طالبان نے بند کیا ہے۔ سرحدی گزرگاہ کو دو طرفہ آمد و رفت کے علاوہ ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بدھ کی شب سے بند کر دیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق طالبان نے افغانستان سے پاکستان آنے والے تمام افراد کو روک لیا ہے۔طالبان کی حکومت کے مقرر کردہ مولوی خادم نے جمعرات کی صبح 180 افراد پر مشتمل ایک فہرست فرنٹیئر کور کے حکام کے حوالے کی تھی کہ ان کو پاکستان میں داخل ہونے دیا جائے۔

ماضی میں طورخم کی سرحدی گزرگاہ پر دو طرفہ آمد و رفت اور تجارت کا سلسلہ نہایت آسان اور آزادانہ رہا ہے۔ پاکستان افغانستان سرحد کے دونوں جانب شہری ویزہ اور پاسپورٹ کے بغیر آ جا سکتے تھے۔ دونوں ممالک کے دیگر علاقوں کے باشندوں کے لیے بھی ویزہ اور پاسپورٹ کی شرط برائے نام تھی۔ البتہ 2001 کے بعد رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت اور دو طرفہ تجارت کے لیے پابندیاں اور قواعد کا اطلاق کیا گیا۔

دونوں ممالک کی سرحد پر 15-2016 خار دار تار بچھانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد کسی بھی پاکستانی شہری کو افغانستان اور کسی بھی افغان باشندے کو بغیر ویزہ اور پاسپورٹ پاکستان آنے کی اجازت نہیں ہے۔

گزشتہ برس مارچ میں کرونا وائرس کے باعث دو طرفہ تجارت اور آمد و رفت پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ بعد ازاں اس میں نرمی کی گئی جب کہ جنوری 2021 سے آمد و رفت کا دو طرفہ سلسلہ بحال کیا گیا جو پانچ مئی 2021 تک جاری رہا۔

مئی 2021 کے بعد آمد و رفت پر پھر پابندی عائد کی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ اگست کے وسط میں طالبان کابل پر قابض ہوئے تھے جس کے بعد افغان باشندوں کی پاکستان میں آمد کو پاسپورٹ اور ویزے کے علاوہ اسلام آباد میں وفاقی وزارتِ داخلہ کے خصوصی اجازت نامے سے مشروط کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق طالبان پاکستان کے اس فیصلے پر خوش دکھائی نہیں دیتے۔

طورخم کے راستے پاکستان اور افغانستان کی دو طرفہ تجارت گزشتہ کچھ عرصے میں بہت متاثر ہوئی ہے۔ طورخم میں موجود کمیشن ایجنٹ ابلان علی کے بقول اب 300 سے 400 گاڑیاں یومیہ پاکستان سے افغانستان جاتی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔ وہاں سے آنے والی زیادہ تر گاڑیاں خالی ہوتی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نائب صدر ضیاء الحق سرحدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سرحدی پابندیوں اور مشکلات کے باعث پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا 70 فی صد حصہ اب ایران اور وسط ایشیائی ممالک منتقل ہو چکا ہے۔ جب کہ دو طرفہ تجارت میں 80 فی صد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ البتہ سرحد پار کشیدگی کے باعث مقررہ اہداف ابھی تک حاصل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

افغانستان کے ساتھ ملحقہ قبائلی ضلعے خیبر کے علاقے لنڈی کوتل کے مرکزی بازار میں طورخم گزر گاہ کی بندش اور پابندیوں سے متاثرہ مزدروں اور دیگر افراد نے جمعرات کو احتجاجی ریلی بھی نکالی۔

ریلی میں مقررین نے طورخم سرحد پر احتجاجی دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کو پیدل آمد و رفت کی اجازت دی جائے۔

پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ بھی پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اگست میں افغانستان کے یومِ آزادی پر پشاور کے علاقے حیات آباد میں افغان قومی پرچم لہرانے کے الزام میں 174 افغان باشندوں کو پولیس نے گرفتار کیا تھا اور پھر انہیں طورخم کے راستے افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ ان افراد میں 30 کے لگ بھگ طلبہ بھی شامل تھے۔

پاکستان کی حدود میں طورخم کے قریب سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ دو نجی اسکول بھی قائم ہیں جہاں افغانستان کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم کے حصول کے لیے آتے ہیں۔ 15-2014 میں نافذ ہونے والی سرحدی پابندیوں کے نتیجے میں سرکاری تعلیمی اداروں میں افغان طلبہ کے حصولِ تعلیم کا سلسلہ تو بند ہو گیا۔ البتہ طورخم کے زرعی اسکولوں میں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل معراج الدین شینواری کے بقول ان اسکولوں میں اب افغان طلہہ کی تعداد محض 152 ہے۔ اور یہ طلبہ بھی 15 اگست کے بعد نہیں آ رہے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG