رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان میں تجارت بحال، تاجر خدشات کا شکار کیوں ہیں؟


کسٹم حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان کے قبضے کے بعد تین چار روز تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت میں کافی کمی دیکھی گئی تھی البتہ اب ایک بار پھر یومیہ 400 کے قریب ٹرکوں کی چمن کے راستے آمد و رفت جاری ہے۔ (فائل فوٹو)

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی روز تک معطل رہنے والی تجارت ایک بار پھر سے بحال ہو گئی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم اور چمن کے راستے بڑی تعداد میں ٹرکوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

کسٹم حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان کے قبضے کے بعد تین چار روز تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت میں کافی کمی دیکھی گئی تھی البتہ اب ایک بار پھر یومیہ 400 کے قریب ٹرکوں کی چمن کے راستے آمد و رفت جاری ہے۔

افغانستان کی درآمدات کا 80 فی صد دار و مدار پاکستان کے راستے ہوتا ہے اور زرعی اشیا سے لے کر عام استعمال کی تمام ہی چیزیں بشمول پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیا پاکستان سے وہاں پہنچائی جاتی ہیں۔

‘پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس’ کے صدر زبیر موتی والا کا نے بتایا کہ جب افغانستان میں صورتِ حال زیادہ خراب ہو گئی تھی تو افغان تاجروں نے کنٹینرز پاکستان میں ہی روک لیے تھے۔ کیوں کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے چند روز میں حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابل سے قبل چمن بارڈر پر طالبان کے قبضے کے بعد تاجر اور بھی گھبرا گئے تھے کہ ایک جانب کابل میں اشرف غنی کی حکومت ہے تو دوسری جانب چمن کے راستے افغانستان کے صوبہ قندھار پر طالبان کا قبضہ ہو چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے میں تاجر خوف زدہ ہو گئے تھے۔

رواں ماہ 15 اگست کے بعد بغیر کسی بڑے خون خرابے کے طالبان کے کابل پر قبضے اور پھر اب تک ان کی جانب سے مثبت رویے کے اظہار کے بعد صورتِ حال میں کسی حد تک بہتری آئی ہے اور افغان تاجروں نے پاکستان میں کھڑے اپنے کنٹینرز منگوانا شروع کردیے ہیں اور اس سے تجارتی حجم میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

تاہم زبیر موتی والا کے مطابق اب بھی صورتِ حال واضح نہیں جس سے مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکے۔

ان کے بقول ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ حالات کس جانب جاتے ہیں۔ کابل میں آنے والی نئی حکومت کی کیا پالیسی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر ملک میں امن و امان کی کیا صورت حال کیا رخ اختیار کرتی ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ تجارت صرف اسی صورت بڑھ سکتی ہے جب افغانستان میں امن ہو۔

اس سے قبل سات اگست کو پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ شام پانچ بجے کے بعد پاکستانی حکام آمدو رفت کا سلسلہ بند کردیتے ہیں اور دیگر وجوہات کی بنا پر روزانہ 300 سے 400 ٹرکوں کے بجائے صرف 30 سے 40 ٹرک ہی سرحد پار کر پاتے ہیں جس میں رشوت کا مطالبہ، غیر ضروری چیکنگ کے نام پر تنگ کرنا اور کسٹمز حکام کی جانب سے غیر معمولی تاخیر بھی شامل ہے۔

چیمبر آف کامرس کا کہنا تھا کہ بارڈر مینیجمنٹ بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور قانونی طور پر تجارت کے راستے میں بلا وجہ کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اسے بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن، طور خم، غلام خان اور خرلاچی کے مقامات سے تجارت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی افغانستان کے لیے سال 21-2020 میں برآمدات 98 کروڑ 32 لاکھ ڈالرز کی رہیں جب کہ سال 20-2019 کے دوران یہ برآمدات 89 کروڑ ڈالرز کی ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اسی طرح افغانستان سے پاکستان سال 21-2020 کے دوران 17 کروڑ 92 لاکھ ڈالرز کی اشیا برآمد کی گئیں اور اس سے قبل سال 20-2019 میں یہ 12 کروڑ 18 لاکھ ڈالرز کی رہی۔

چمن چیمبر آف کامرس کے صدر جلات خان اچکزئی کے مطابق افغانستان کی صورت حال خراب ہونے کے اثرات درآمدات و برآمدات کے علاوہ ٹرانزٹ ٹریڈ پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں تجارتی صورت حال خراب ہی ہے۔

جلات خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بننے والی معمولی اشیا، سیمنٹ اور غذائی اشیا سے لے کر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ تک کی اشیا افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں اس میں کوئی خاص اضافہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔ بلکہ چند برس سے اس تجارت میں کمی دیکھی گئی ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کا تعلق امن و امان کی خراب صورت حال سے لے کر بہتر انفراسٹرکچر کے فقدان، نان ٹیرف رکاوٹوں اور بیوروکریسی کی جانب سے ڈالی جانے والی سرخ فیتے کی رکاوٹیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اشرف غنی کی حکومت کے دوران افغانستان نے پاکستان کے علاوہ ایران، بھارت اور وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارتی تعلقات استوار کرنے پر توجہ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارتی اور ایرانی مصنوعات افغانستان کی مارکیٹ پر اپنا قبضہ جمانے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں۔ جب کہ دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم دو ارب ڈالرز سے اب ایک ارب ڈالرز کی حد سے بھی نیچے آگیا ہے۔ جب کہ اس کو 10 ارب ڈالرز تک کی بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

تاجروں کے بقول بسا اوقات ٹرکوں کو طور خم اور چمن بارڈر کو کراس کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے مال خراب ہوجاتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں جہاں کمی واقع ہو رہی ہے تو دوسری جانب اسمگلنگ میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے اور اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والے دنوں میں پاکستان کو افغانستان کے راستے اسمگلنگ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG