رسائی کے لنکس

logo-print

افغان طالبان کے وفد کا ازبکستان کا دورہ


ازبکستان کے وزیرِ خارجہ عبدالعزیز کاملوو جن سے طالبان وفد نے ملاقات کی۔ (فائل فوٹو)

طالبان ترجمان کے بقول ان ملاقاتوں میں موجودہ اور مستقبل کے ان قومی منصوبوں پر گفتگو کی گئی جو افغانستان میں ازبکستان کے تعاون سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

افغان طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ازبکستان کا دورہ کیا ہے جہاں اس کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

ازبک حکام اور طالبان قیادت نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد کی قیادت طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی کر رہے تھے جس نے گزشتہ ہفتے پانچ روز تک ازبک حکام سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

قطر میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفترکے ترجمان محمد سہیل شاہین نے ہفتے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 6 سے 10 اگست تک ہونے والے اس دورے کے دوران طالبان وفد نے ازبک وزیرِ خارجہ عبدالعزیز کاملوو اور افغانستان کے لیے ازبک حکومت کے خصوصی ایلچی عصمت اللہ ارگاشیو سے ملاقاتیں کیں۔

طالبان ترجمان کے بقول ان ملاقاتوں میں موجودہ اور مستقبل کے ان قومی منصوبوں پر گفتگو کی گئی جو افغانستان میں ازبکستان کے تعاون سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان کے بقول ملاقاتوں میں ریلوے اور بجلی کی لائنوں کی حفاظت کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے جن کی سکیورٹی کے متعلق ترجمان کے بقول ازبک حکومت نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

ازبکستان اور افغانستان کے درمیان ریل رابطہ اور بجلی کی ترسیل کا نظام نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بلکہ افغانستان کے پاور انفراسٹرکچر کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ افغانستان اپنی ضرورت کی بیشتر بجلی ازبکستان سے خرید رہا ہے۔

طالبان ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ان کے وفد نے ازبک حکام کے ساتھ افغانستان میں قیامِ امن اور وہاں سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا۔

ماہرین نے طالبان کے اس دورے کو افغانستان میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں ان کی سیاسی موجودگی کا اظہار قرار دیا ہے۔

ازبکستان کی وزارتِ خارجہ نے طالبان وفد کے دورے سے متعلق ایک مختصر پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے دوران طرفین نے افغانستان میں امن عمل کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

افغانستان کی اعلیٰ مذاکراتی کونسل نے طالبان وفد کے ازبکستان کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ازبک حکومت نے طالبان سے بات چیت سے قبل افغان حکومت کو اعتماد میں لیا تھا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان اور ازبکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات میں بھی افغان حکومت کا کوئی ذکر نہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ازبکستان کی حکومت اپنی سرحد سے متصل افغان علاقوں میں شدت پسند تنظیم داعش کے جڑیں پکڑنے کے امکانات سے بھی خائف ہے اور بظاہر اس لیے بھی طالبان سے اپنے رابطے بڑھا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ازبکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'اسلامک موومنٹ آف ازبکستان' کے سیکڑوں جنگجو مبینہ طور پر داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔

ماضی میں ایک سینئر طالبان رہنما یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تحریک نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں اپنا سیاسی دفتر قائم کیا ہے جس کا مقصد ازبک حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا اور یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان کی تحریک ازبکستان کے مقامی شدت پسند گروہوں کی مدد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ازبک صدر شوکت مرزی یوئیو نے رواں سال مارچ میں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG