رسائی کے لنکس

افغانستان: خواتین کو بینکوں میں کام کرنے سے روکنے کے واقعات


فائل فوٹو

جولائی کے اوائل میں جب طالبان جنگجو افغانستان میں حکومتی فورسز کے علاقوں پر قبضہ کر رہے تھے تو جنوبی شہر قندھار کے عزیزی بینک میں جنگجوؤں کا گروپ داخل ہوا۔ اور بینک میں کام کرنے والی نو خواتین کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اس بینک کی تین خواتین اور مینجر کے مطابق مسلح افراد نے انہیں ان کے گھروں تک پہنچا دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ واپس اپنی ملازمتوں پر نہیں جائیں گی۔

ان کے بقول، ان سے یہ کہا گیا کہ ان کے بدلے مرد رشتے دار ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔

بینک کے اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والی 43 سالہ نور خاتیرہ نے 'رائٹرز' سے گفتگو میں بتایا کہ کام کی اجازت نہ دینا واقعی عجیب ہے۔ لیکن اب جو ہے وہ یہی ہے۔

ان کے بقول، 'انہوں نے خود سے انگریزی زبان اور یہ سیکھا تھا کہ کمپیوٹر کس طرح چلایا جاتا ہے۔ لیکن اب میں کام کے لیے وہ جگہ دیکھوں گی جہاں میں مزید خواتین کے ساتھ کام کرسکوں۔'

عزیزی بینک میں پیش آئے اس واقعے کے دو روز بعد ہی ایسا ہی ایک واقعہ ہرات شہر کے بینک ملی میں بھی پیش آیا۔

رائٹرز کے مطابق تین مسلح طالبان جنگجو مذکورہ برانچ میں داخل ہوئے اور چہرہ دکھانے والی خواتین ملازمین کو متبنہ کیا۔ بعد ازں وہاں موجود خواتین کو ہٹا کر ان کی جگہ ان کے مرد رشتے داروں کو بھیج دیا گیا۔

البتہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان دونوں واقعات پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ مزید برآں دونوں بینکوں کے ترجمانوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے مئی میں افواج کے اںخلا کے آغاز کے بعد سے طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آئی ہے اور وہ ملک کے دارالحکومت کابل تک پہنچ چکے ہیں۔

طالبان کی جانب سے جب 1996 سے 2001 میں افغانستان پر حکومت کی گئی تھی تو خواتین کام نہیں کرسکتی تھیں، لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں تھی اور گھروں سے باہر جانے کے لیے مرد رشتے دار کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔

البتہ حالیہ عرصوں میں سیاسی تصفیے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں طالبان رہنماؤں نے یہ یقین دہائی کرائی ہے کہ خواتین کو اسلام کے مطابق برابر حقوق دیے جائیں گے۔ بشمول کام کرنے اور پڑھنے کے حق کے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا خواتین کو طالبان کے زیرِاثر علاقوں میں بینکوں میں کام کی اجازت دی جائے گی؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اسلامی نظام کے قیام کے بعد قانون کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا اور اللہ نے چاہا تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔'

خیال رہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ طالبان ان آزادیوں کو واپس لے لیں گے جو خواتین کو حاصل ہوئی ہیں۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس سے شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد سے ہونے والے حملوں میں صحافت، صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ خواتین بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے طالبان پر ان ہلاکتوں کا الزام لگایا گیا ہے جسے طالبان مسترد کرتے ہیں۔

افغان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان تمام سطح پر آزادی چھین لیں گے اور ہم اسی لیے لڑ رہے ہیں۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG