رسائی کے لنکس

کار بم دھماکے میں افغان صوبے لغمان کے گورنر زخمی، آٹھ افراد ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے صوبہ لغمان کے گورنر رحمت اللہ یارمل کے قافلے پر ہونے والے کار بم کے ایک حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں گورنر کے چار ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔

صوبائی گورنر یارمل بھی زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوحہ میں افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں اور صدر اشرف غنی بھی دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

گورنر لغمان کے ترجمان اسد اللہ دولت زئی نے بتایا ہے کہ حملہ پیر کی صبح ہوا۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان ایک طرف تو دوحہ میں کابل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب وہ اپنے حملوں میں تیزی لے آئے ہیں۔ جب کہ طالبان یہ الزام مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے آغاز کے بعد سے ان کے حملوں میں کمی آئی ہے۔

اس سے قبل تین اکتوبر کو ننگر ہار میں ایک سرکاری عمارت پر حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی مذمت کی تھی۔

صدر اشرف غنی کی قطر میں اعلٰی حکام سے ملاقاتیں

افغان صدارتی محل کے ایک بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے پیر کو دوحہ میں قطری حکام سے ملاقات کی ہے۔

نائب صدارتی ترجمان دعوی خان میناپل نے بتایا ہے کہ صدر غنی نے دوحہ آمد سے قبل کویت کا بھی دورہ کیا اور حکام سے کویت کے امیر کی وفات پر تعزیت کی۔

صدر اشرف غنی کابل میں یوم آزادی کی تقریب میں ماسک پہن کر شریک ہیں۔ 18 اگست 2020
صدر اشرف غنی کابل میں یوم آزادی کی تقریب میں ماسک پہن کر شریک ہیں۔ 18 اگست 2020

دورے کے دوران صدر غنی نے کویت کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی۔ افغان صدر ایک اعلٰی سطح کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں جس میں ان کے اول نائب صدر امراللہ صالح، قومی سلامتی کے مشیر، نگران وزیرِ خارجہ اور دوسرے اعلی حکام شامل ہیں۔

صدر غنی قطر کے اپنے اس دورے کے دوران اہم سفارت کاروں، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کار صدر غنی کے دورۂ قطر کو اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا دورہ امن مذاکرات کے لیے قواعد طے کرنے کے عمل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار بن سکتا ہے۔

طالبان کے ایک سابق اہل کار سید اکبر آغا کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کی موجودہ صورتِ حال کو تبدیل ہونا چاہیے اور قطری حکومت اور امریکی حکومت کو صدر غنی سے کہنا چاہیے کہ وہ افغانستان میں امن کی راہ میں حائل موجودہ روکاوٹوں کو ختم کریں۔

امن مذاکرات کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ دوحہ میں افغانستان اور طالبان کی مذاکراتی ٹیمیں قواعد و ضوابط کے دو نکات پر بدستور اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں۔

افغان حکومت کی ٹیم کی اولین ترجیح جنگ بندی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان شاید جامع جنگ بندی پر راضی نہ ہوں کیوں کہ ان کے حملہ کرنے کی اہلیت ہی مذاکرات کی میز پر ان کی طاقت ہے۔

طالبان چاہتے ہیں کہ تمام معاملات کو سنی حنفی فقہ کے مطابق حل کیا جائے۔ تاہم افغان حکومت چاہتی ہے کہ ایک اعتدال پسندانہ طریقۂ کار اختیار کیا جائے جو تمام اسلامی گروپس کے لیے قابلِ قبول ہو کیوں ملک میں شیعہ اور دیگر فقہ کے لوگ بھی آباد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG