رسائی کے لنکس

امریکہ کا ایک بار پھر جلد از جلد بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر زور


امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت نے افغانستان کے یومِ آزادی پر ٹوئٹر پر ایک تہنیتی پیغام میں کہا کہ چیلنجز کے باوجود تمام افغان رہنماؤں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے اعلیٰ سفارتی اور فوجی حکام نے افغان حکومت اور طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں مستقل جنگ بندی اور جلد از جلد بین الافغان مذاکرت کا آغاز کریں۔

امریکہ کے اعلیٰ حکام نے یہ بات افغانستان کے یومِ آزادی پر اپنے پیغامات میں کہی ہے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان کے یومِ آزادی پر ٹوئٹر پر ایک تہنیتی پیغام میں کہا کہ چیلنجز کے باوجود تمام افغان رہنماؤں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے ملک کو مقدم رکھتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ایک سیاسی معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔

زلمے خلیل زاد کے بقول افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کا یہی ایک راستہ ہے۔

خلیل زاد کا کہا تھا کہ افغان عوام امن کے خواہاں ہیں۔ افغان قیادت کی سر پرستی میں جلد ہی مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔ یہ ایک تاریخی اور اہم اقدام ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کے یومِ آزادی پر افغان عوام کے نام پیغام میں کہا کہ ہم افغان عوام کے عزم اور خود ارادیت کا احترام کرتے ہیں۔ جنہوں نے 40 سالہ جنگ کے خاتمے، امن و خوشحالی اور آزادی سے جینے کے لیے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک ایسے سیاسی تصفیے کے لیے پر عزم ہے جس سے افغاستان میں تنازع کا خاتمہ ہو سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان دوبارہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے کبھی بھی خطرہ نہ بن سکے۔

دوسری طرف افغانستان میں تعینات 'نیٹو ریزلوٹ سپورٹ مشن' کے سربراہ جنرل اسکاٹ ملر نے ایک ٹوئٹ میں تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کم کر کے امن کی جانب بڑھیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے عمل کے مکمل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات کے آغاز سے قبل افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جبکہ طالبان نے اپنی تحویل میں موجود افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنا تھے۔

فریقین نے اگرچہ ایک دوسرے کے زیادہ تر قیدی رہا کر دیے لیکن ابھی افغان حکومت کی قید میں موجود طالبان کے 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔

افغان حکومت نے صدر اشرف غنی کی منظوری کے بعد ان 400 قیدیوں میں سے 80 کو رہا کر دیا ہے۔ افغان حکومت سے بعض ممالک نے کہا ہے کہ وہ ان طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرے جو مبینہ طور ان کے شہریوں کی ہلاکت میں ملوث رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

طالبان کا مؤقف ہے کہ بین الافغان مذاکرات سے قبل ان کے تمام قیدیوں کی رہائی ضروری ہے۔

'امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ بین الافغان مذاکرات جلد از جلد شروع ہوں'

افغان امور کے تجزیہ کار اور صحافی سمیع یوسف زئی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ بین الافغان مذاکرات جلد از جلد شروع ہوں۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سمیع یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے بعض اتحادی ممالک جیسے فرانس، ناروے اور آسٹریلیا نے کہا ہے کہ طالبان کے 6 یا 7 ایسے قیدیوں کو رہا نہ کیا جائے جو افغانستان میں تعینات ان کے فوجیوں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔

سمیع یوسف زئی کے بقول طالبان کا مؤقف ہے کہ بین الافغان مذاکرات سے پہلے ان کے تمام قیدیوں کی رہائی امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ضروری ہے۔

سمیع اللہ یوسف زئی نے کہا کہ طالبان کا یہ کہنا ہے کہ ان کے باقی 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری رہنا چاہیے اور جب ان کے چند قیدی باقی رہ جائیں گے تو پھر وہ ان قیدیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے جن کی رہائی پر بعض ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق افغانستان کے یومِ آزادی پر امریکہ کے اعلیٰ حکام کے بیانات میں افغان حکومت اور طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قیامِ امن کا تاریخی موقع ضائع نہ کریں۔ بصورت دیگر صورتِ حال پیچیدہ ہو سکتی ہے اور شاید ایسا موقع دوبارہ نہ مل سکے۔

'بین الاافغان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:55 0:00

سمیع یوسف زئی کے خیال میں چند ایک طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق بعض ممالک کے تحفظات سے افغان حکومت کو طالبان کے باقی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا موقع مل گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بین الافغان مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہے۔

'اپریل سے جون میں طالبان نے اتحادی فوج پر کوئی حملہ نہیں کیا'

دوسری طرف امریکہ کے محکمۂ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے یکم اپریل سے 30 جون کی سہ ماہی سے متعلق تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت طالبان نے اس عرصے کے دوران امریکہ یا اتحادی فورسز پر کوئی ایک بھی حملہ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تشدد میں بظاہر کمی کی وجہ سے امریکہ اور اتحادی فورسز کی فضائی کارروائیوں میں بھی 80 فی صد کمی آئی ہے۔ دوسری طرف افغان سیکیورٹی فورسز پر طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں اقوامِ متحدہ اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان شدت پسند گروہ القاعدہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ القاعدہ کے ارکان کے ساتھ مل کر انہوں نے افغان سیکیورٹی فورسز پر مبینہ حملے کیے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع کی رپورٹ پر تاحال طالبان کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ رواں سال فروری میں طے پانے والے معاہدے کی مکمل پاس داری کر رہے ہیں۔

طالبان کسی شدت پسند گروہ سے رابطے کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ طالبان کا ایسے کسی گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جو کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ ہو۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG