رسائی کے لنکس

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں جمعے کے روز سڑک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے کم از کم 5 عام شہری ہلاک اور 10 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

دھماکے کا نشانہ بننے والے افراد صوبائی صدر مقام جلال آباد سے ضلع ہسکا مینہ کی جانب سفر کر رہے تھے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی گاڑی سڑک کے ساتھ نصب ایک بم سے ٹکرا گئی ۔

ترجمان عطااللہ خوگیانی نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں دو خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک دور افتادہ گاؤں ختاکی کے نزدیک ہوا جو افغان حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

کسی نے ابھی تک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

شورش پسند طالبان اور دہشت گرد گروپ داعش کی افغانستان شاخ سے منسلک جنگجو ہسکا مینہ کے دیہی علاقوں اور اس کے قرب و جوار میں موجود ہیں۔

اس صوبے کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان تنازع کے باعث اس سال عام شہریوں کی ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے مشن یواین اے ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 کے پہلے تین مہینوں کے دوران 2260 افراد شورش سے منسلک واقعات کا ہدف بنے جن میں سے 700 سے زیادہ ہلاک ہو گئے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال 10 ہزار سے زیادہ لوگ دھماکوں اور حملوں کا نشانے بن کر ہلاک یا زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 سو کے لگ بھگ تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG