رسائی کے لنکس

مشرقی افغانستان میں خودکش حملہ، 8 افراد ہلاک


افغانستان میں خودکش حملہ، فائل فوٹو

صوبائی حکومت کے ترجمان عبداللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے سابق پولیس کمانڈر کے حامی تھے اور اس کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

افغانستان کے مشرقی حصے میں جمعرات کے روز ایک خودکش دھماکے میں کم ازکم 8 افراد ہلاک اور 16 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغان صوبے ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد میں ایک سابق ضلعی پولیس افسر کے گھر کے باہر ایک مجمع میں ہوا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان عبداللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے سابق پولیس کمانڈر کے حامی تھے اور اس کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔

یہ حملہ صوبائی حکومت کے ترجمان خوگیانی کی جانب سے وائس آف امریکہ کو یہ تصدیق کیے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد ہوا کہ داعش نے شورش زدہ ضلع اچن میں اپنے ہی 15 عسکریت پسندوں کے سر قلم کر دیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گلے کاٹنے کی یہ کارروائی دور افتادہ علاقے مومند ڈیرہ کے علاقے میں رات کے دوران ہوئی اور ان کی سربریدہ نعشیں اب بھی وہیں پڑی ہیں۔ خوگیانی نے خیال ظاہر کیا کہ یہ واقعہ اندورنی چپقلش کا نتیجہ تھا۔

افغان میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ داعش چھوڑ کر حکومت کے امن عمل میں شامل ہونے جا رہے تھے۔

اچن اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر داعش کا کنٹرول ہے اور افغان فورسز امریکی سرپرستی میں وہاں اکثر حملے کرتی رہتی ہیں۔

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغان عہدے داروں اور جارجیا کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے نزدیک بگرام ایئر پورٹ پر طالبان کے حملے میں جارجیا کے تین فوجی زخمی ہوئے تھے۔

غیر نیٹو ممالک میں سے افغانستان میں سب سے زیادہ فوجی موجودگی جارجیا کی ہے اور اس کے وہاں 885 فوجی تعینات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG