رسائی کے لنکس

ستائیس فروری کو پاکستان اور بھارت کی فضائی جھڑپ میں ہوا کیا تھا؟


(فائل فوٹو)

پُلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی جب گزشتہ سال 26 فروری کو مقامی اور بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان کی حدود میں واقع بالاکوٹ میں "شدت پسندوں" کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ اس مبینہ کارروائی پر پاکستان کا ردعمل بھی آ گیا۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اس قسم کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں تھا اور نا ہی اس کارروائی میں پاکستان کا کوئی جانی و مالی نقصان ہوا۔

پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ بھارت کی اس کارروائی کا جواب دے گا۔ اور پھر اس کے اگلے ہی روز یعنی 27 فروری کو پاکستان نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی افواج نے بھارت کے دو جہازوں کو مار گرایا ہے۔ البتہ بھارت کے ايک مِگ 21 طیارے کی پاکستانی حدود ميں گرنے کی تصدیق ہوئی اور اس کے پائلٹ ابھینندن ورتھمن کو تحويل ميں لے ليا گيا تھا۔

اسلام آباد ميں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان ايئر فورس کے ايئر کموڈور سيد عمر شاہ کا کہنا تھا کہ 27 فروری کی کارروائی ميں پاکستان ايئر فورس کی جانب سے ميراج، جے ايف 17 تھنڈر اور ايف 16 جنگی طياروں نے حصہ ليا۔

ستائیس فروری کی صبح کے واقعے کو ياد کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ اس دن پاکستان کی ايئر فورس کا جوابی کارروائی کا دن تھا۔ اس کارروائی کو 'آپريشن سوئفٹ ريٹارٹ' کا نام ديا گيا تھا۔

انہوں نے واضح کيا کہ پاکستان ايئر فورس بھارت کے خلاف 'کوئڈ پرو کو پلس' کی پاليسی پر عمل کرتی ہے جس کا مطلب دو گنا نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ ایئر کموڈور عمر شاہ کے بقول بھارت نے رات کے اندھيرے ميں فائر کيا جس کا جواب ہم نے دن کے اجالے ميں ديا۔

بھارتی حملے کے حوالے سے پاکستان ايئر فورس کے ايک اور سينئر افسر نے بتايا کہ اس کارروائی ميں بھارت کے 12 جہازوں نے حصہ ليا اور اسرائیلی ساختہ اسپائس بم بالاکوٹ ميں گرائے گئے۔

ان کے مطابق بھارتی جہاز پاکستانی حدود ميں صرف چند لمحے رہے اور انہوں نے حواس باختہ انداز ميں 600 ناٹس کی اسپيڈ سے بم گرائے جب کہ ان بموں کو گرانے کے لیے 400 ناٹس کی رفتار درکار ہوتی ہے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے بم اپنے ٹارگٹ پر نہیں گرے اور ايک "کوّے" اور چند درختوں کے علاوہ کسی بھی قسم کی جانی و مالی ہلاکتيں نہیں ہوئيں۔

پاکستانی ايئر فورس کے اہلکار نے مزيد بتايا کہ ہماری فورس نے بھارتی طیاروں کو 'ڈاگ فائٹ' کا موقع بھی فراہم نہیں کيا اور جيسے ہی ان کے دو جہاز مگ 21 اور ايس يو 30 پاکستانی حدود ميں داخل ہوئے تو پاکستانی طیاروں نے ان کو ٹارگٹ کيا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مگ 21 جہاز جسے ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمن چلا رہے تھے، اسے ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے بائيں طرف سے نشانہ بنایا جب کہ اسکوارڈن ليڈر حسن صديقی نے ايس يو 30 کو نشانہ بنايا۔

ان کے بقول مگ 21 جہاز کا ملبہ پاکستان کی حدود ميں گرا اور اس کے پائلٹ ابھینندن کو جنگی قيدی بنايا گيا جب کہ ايس يو 30 کا ملبہ بھارتی حدود ميں گرا۔

بھارتی حکام ايس يو 30 جہاز کے گرائے جانے کی سختی سے ترديد کرتے ہيں اور پاکستان کا ایک ايف 16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کرتے ہيں۔ لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکے ہیں۔

ايئر فورس اہلکار کے مطابق اگر ونگ کمانڈر ابھینندن بھارتی حدود میں گرا ہوتا اور پھر چاہے ان کا جہاز ہماری طرف گرا ہوا ہوتا، تب بھی بھارت نے اپنے جہاز کی تباہی کا نہیں ماننا تھا۔

انہوں نے بھارتی فوج کی "نان پروفيشنل ازم اپروچ" کی وضاحت کرتے ہوئے بتايا کہ ابھی نندن سے جو میڈیکل کٹ پاکستانی حکام نے اپنی تحویل میں لی اس پر درج تاریخ کے مطابق وہ برسوں سے ايکسپائر تھی۔

ايئر کموڈور عمر شاہ کے مطابق ابھینندن جس مگ 21 جہاز کو اُڑا رہے تھے وہ سادہ نہیں تھا۔ اس کو 'بائی سن ٹيکنالوجی' سے اپ گريڈ کيا گيا تھا۔ اس ميں اسرائيلی ساختہ ريڈار سسٹم نصب تھا جس ميں چار لانگ رينج ميزائل تھے۔ ابھینندن کے ہيلمٹ ميں 'ماؤنٹڈ سائٹ' کی ٹیکنالوجی تھی جس کے ذريعے وہ ہر جانب اپنا ٹارگٹ لاک کر سکتا تھا۔

پاکستان کی جانب سے بھارتی ايس يو 30 جہاز کے مار گرانے کے شواہد ميں پاکستانی اہلکار اسی دن بھارت کی حدود میں ايک ايم آئی 17 ہيلی کاپٹر بھی گرانے کی بات کرتے ہيں جس ميں عملے کے ارکان سميت 6 افراد مارے گئے تھے۔

پاکستان ایئر فورس کے اہلکار کہتے ہيں کہ پائلٹس نے ايس يو 30 کو ٹارگٹ بنا کر لاک کيا اور اس کے بعد فائر کیے گئے ميزائل نے آخری دم تک اس کا پيچھا کيا اور ريڈار پر ہٹ کرنے کے عمل کو اليکٹرانیکلی ديکھا گيا۔

انہوں نے مزید بتايا کہ بھارتی ايئر فورس کے اہلکاروں نے ايف 16 جہاز کے ميزائل کے ٹکڑے ميڈيا کو دکھائے تھے جس کے ذريعے وہ يہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ پاکستان نے ايف 16 جہاز استعمال کیے ہيں۔

انہوں نے مزید کہا کہ يہ اسی میزائل کے ٹکڑے ہيں جس کے ذريعے ان کے ايس يو 30 کو بھارتی حدود کے اندر نشانہ بنايا گيا۔

تاہم بھارتی اہلکار پاکستانی ایئر فورس کے ان دعوؤں سے اختلاف کرتے ہيں۔ اسلام آباد ميں تعينات بھارتی ہائی کميشن کے سينئر اہلکاروں نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ ابھینندن نے پاکستان کا ایک ايف 16 جہاز مار گرايا تھا۔ لیکن بھارتی حکام اس بارے ميں کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔

تجزيہ نگار کرسٹين فيئر بھی بھارتی حکام کے ان دعوؤں سے اتفاق نہیں کرتیں۔ بھارتی حکام کی جانب سے منعقد کردہ ايک سيمينار ميں انہوں نے کھل کر کہا کہ "ميں واضح طور پر يہ بتانا چاہتی ہوں کہ بھارتی کارروائی ميں کوئی ايف 16 جہاز نہیں گرايا گیا۔"

بھارتی فضائيہ نے بعد ميں اپنے ہی ہيلی کاپٹر کے مار گرانے کو ايک "بڑی غلطی" قرار ديا تھا۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق عام دنوں ميں اس قسم کے ہيلی کاپٹر ميں صرف تین افراد سوار ہوتے ہيں جب کہ اس دن اس ميں تين اضافی افراد سوار تھے۔

پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ اس بات سے مبينہ طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افراد ايس يو 30 کے تباہ شدہ جہاز کے پائلٹ کو ريسکيو کرنے کے مشن پر تھے۔

پاکستان ايئر فورس کے مطابق اس قسم کی حساس صورتِ حال ميں ايم آئی 17 ہیلی کاپٹر اڑانے کی کوئی منطق نہیں بنتی سوائے سرچ اينڈ ريسکيو آپريشن کے۔

پاکستان کی فوج کے اس وقت کے ترجمان ميجر جنرل آصف غفور نے 27 فروری 2019 کی صبح پريس کانفرنس ميں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتايا تھا کہ ہم نے اپنی ہی فضائی حدود سے بھارت میں چھ ٹارگٹس لاک کرنے کے باوجود کھلی جگہوں پر اسٹرائیکس کیں۔

سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بھارت پر اپنی صلاحيت کا اظہار کرنا تھا نہ کہ جنگ کا ماحول پيدا کرنا۔ کيوں کہ پاکستان کسی بھی صورت ميں اس خطے کو جنگ کی جانب نہیں دھکيلنا چاہتا۔

بھارت کی جانب سے ايف 16 جہاز کے مار گرانے کے دعوے کے بارے ميں ايئر فورس اہلکار نے بتايا کہ جب بھی جہازوں کے درميان 'ڈاگ فائٹ' ہو جائے تو پائلٹ سب سے پہلا کام یہ کرتا ہے کہ وہ اضافی فيول ٹينک پھينک ديتا ہے تاکہ اس کی حرکت آسانی سے ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھینندن کے جہاز میں تمام اضافی فيول ٹينک لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جہاز کے چاروں ميزائل بھی سلامت تھے جس سے يہ مزيد واضح ہو جاتا ہے کہ 'ڈاگ فائٹ' کا کوئی اقدام سرے سے ہوا ہی نہیں۔

ياد رہے کہ شروع ميں پاکستان کی فوج کے ترجمان نے دو بھارتی پائلٹس کو قبضے ميں لينے کے بارے ميں پريس کانفرنس ميں بتايا تھا تاہم بعد ميں انہوں نے ايک پائلٹ کی تصدیق کی تھی جسے چند روز بعد واہگہ بارڈر کے ذريعے بھارتی حکام کے حوالے کيا گيا تھا۔

البتہ مقامی افراد اب بھی دو پائلٹس کے پکڑے جانے پر بضد ہيں۔ ان کے مطابق انہوں نے جہاز مار گرائے جانے کے بعد دو پيرا شوٹ ہوا ميں ديکھے تھے۔

ايئر فورس اہلکار نے دو پائلٹوں کے معاملے سے متعلق وضاحت کی کہ 'بائی سن' جہاز کی سيٹ میں عليحدہ پيرا شوٹ ہوتا ہے اور سيٹ کے نيچے راکٹ لگے ہوتے ہيں۔ جيسے ہی ابھینندن کو پتا چلا کہ ان کا جہاز ہٹ ہو گيا ہے تو سب سے پہلے انہوں نے فوراً اپنی سيٹ کو ايجیکٹ کيا اور وہ سيٹ کے ساتھ ہی باہر آ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے ميں جب ابھینندن نے خود کو سيٹ سے عليحدہ کيا تو ابھی نندن کا اپنا پيرا شوٹ کھلا اور سيٹ میں نصب پیرا شوٹ بھی کھل گیا۔ اس لیے لوگوں نے دو پيرا شوٹس دیکھ کر دو پائلٹس سمجھ لیے جب کہ حقيقت ميں پائلٹ ايک ہی تھا۔

ایئر کموڈور سيد عمر شاہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان ايئر فورس اپنے دفاع ميں ہر قسم کے ہتھيار استعمال کر سکتی ہے اور اس ضمن ميں اس پر کسی بھی ملک کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

انہوں نے بتايا کہ بھارتی پروپيگنڈے کے بعد امريکی اہلکاروں نے پاکستان کے تمام ايف 16 جہازوں کو محفوظ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت تو نہیں کی کہ پاکستان نے بھارتی جہازوں کو کون سے طیاروں کے ذريعے نشانہ بنايا۔ البتہ ايئر فورس کے ايک سينئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر وائس آف امريکہ کو بتايا کہ ابھینندن کے جہاز کو پاکستان نے ايف 16 طیارے سے نشانہ بنايا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG