رسائی کے لنکس

logo-print

الجزائر: یرغمالی بحران کےمعمے میں کینیڈا کا شہری ملوث


قدرتی گیس کی تنصیب پرحملے کی سازش مالی میں تیار ہوئی جب کہ اِس معمے کے پیچھے رابطے کا کام کینیڈا کے ایک شہری کی کارستانی ہے، جس کا نام شداد بتایا جاتا ہے: الجزائر کے وزیر اعظم کا بیان

الجزائر کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے جنوبی الجزائر کے قدرتی گیس کی تنصیب پرحملے کی سازش مالی میں تیار ہوئی جب کہ اِس معمے کے پیچھے رابطے کا کام کینیڈا کے ایک شہری کی کارستانی ہے، جس کا نام شداد بتایا جاتا ہے۔

رائٹر خبر رساں ادارے نےالجزائر سے رپورٹ میں کہا ہے کہ یرغمال بنائے جانے کا یہ بحران کئی سالوں سے سامنے آنے والے ایسے واقعات میں اپنی نوعیت کا بدترین واقعہ تھا۔

پانچ روز قبل 40جہادی جنگجوؤں نےلیبیا کی سرحد کے قریب واقع اِس گیس فیلڈ پر حملہ کیا اور الجزائر نے ایک فوجی کارروائی کرتے ہوئے اُنھیں موت کے گھاٹ اتار دیا یا پھر پکڑ لیا، جب کہ اصل منظر نامہ ابھی واضح ہوتا جا رہا ہے۔

بحران کے ابتدائی مرحلے میں کچھ یرغمالی موقعے سے فرار ہوگئے، لیکن پھنسے ہوئے درجنوں یرغمالیوں کی امیدیں اُس وقت دم توڑ گئیں جب فوج نے اغوا کاروں کو آڑے ہاتھوں لینے کا فیصلہ کیا۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان، رومانیہ، ناروے اور فلپین سے تعلق رکھنے والے کارکن یا تو ہلاک ہوئے یا پھر لاپتا ہیں، جب کہ ہلاک ہونے والے یرغمالیوں اور شدت پسندوں کی مجموعی تعداد 67بتائی جاتی ہے، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

برطانیہ کا ایک کارکن بھاگ نکلنے والوں میں شامل تھا۔ اپنی داستان بیان کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ اغوا کاروں نے اُن کی گردن کے ساتھ سیمٹیکس پلاسٹک میں لپٹا آتشیں مواد باندھ رکھا تھا، جب کہ اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور منہ پر ٹیپ لگا ہوا تھا۔ ایک اور یرغمالی ڈیڑھ دِن تک اپنےبستر کے نیچے چھپا رہا، ایسے میں جب جہادی جنگجو کارکنوں کے رہائشی کمپلیکس کی تلاشی لے رہے تھے۔

الجزائر کے وزیر اعظم عبدالمالک سلال نے بتایا ہے کہ یہ سازش جنگ زدہ مالی میں تیار کی گئی جب کہ حملہ آور نائیجر اور لیبیا سے الجزائر میں داخل ہوئے تھے۔

سلال نے بتایا کہ جہادی عناصر مصر، ماریتانیہ، نائجر تیونیسیا، مالی، الجزائر سے تھے، جب کہ ایک کینیڈا سے بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر کینیڈا کے شہری کا نام شداد بتایا جاتا ہے، جو کہ حملہ آروں کے رابطہ کار کا کام انجام دے رہا تھا۔
XS
SM
MD
LG