رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی حکام کی افغان طالبان سے ملاقات، امن عمل پر بات چیت


کابل: شمخانی کی افغان حکام سے بات چیت

علی شمخانی کے حوالے سے، ’تسنیم‘ نے بتایا ہے کہ ’’طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور مکالمے کے بارے میں افغان حکومت کو اطلاع دی گئی ہے، اور یہ عمل جاری رہے گا‘‘۔ ادھر، افغان قومی سلامتی کے مشیر نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر زور دیا ہے۔

ایران کے خبر رساں ادارے، ’تسنیم‘ نے بدھ کے روز ایران کے سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی افغان طالبان سے ملاقات ہوئی ہے، جس سے چند ہی روز قبل شدت پسندوں نے متحدہ عرب امارات میں مفاہمتی مذاکرات کیے تھے۔

ایران کے قومی سلامتی کے رہنما ادارے کے سکریٹری، علی شمخانی نے یہ اعلان افغان دارالحکومت، کابل کے دورے کے دوران کیا ہے، جس کی اطلاع ایران کے کئی اداروں نے جاری کی ہے۔

شمخانی کے حوالے سے، ’تسنیم‘ نے بتایا ہے کہ ’’طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور مکالمے کے بارے میں افغان حکومت کو اطلاع دی گئی ہے، اور یہ عمل جاری رہے گا‘‘۔

خبر رساں ادارے نے یہ تفصیل نہیں بتائی آیا یہ مذاکرات کہاں ہوئے۔ ’تسنیم‘ کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے قریب خیال کیا جاتا ہے۔

شمخانی نے کہا کہ ’’خطے کا استحکام اور دونوں ملکوں کے مابین تعاون کے معاملات ہمیشہ سے اسلامی جمہوریہ کے بنیادی ستوں رہے ہیں، جن کی مدد سے یقینی طور پر آج افغانستان کو درپیش سکیورٹی نوعیت کے مسائل کو سلجھانے میں مدد ملے گی‘‘۔

’تسنیم‘ کے ایک نمائندے، عباس اسلانی نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ پہلی بار ایران اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس اعلان سے قبل متحدہ عرب امارات میں امریکہ اور طالبان کے حکام کے درمیان گذشتہ ہفتے مفاہمتی بات چیت ہو چکی ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے متحدہ عرب امارات، پاکستان اور سعودی عرب سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ لیکن، شدت پسندوں نے افغانستان سے آنے والے وفد سے ملاقات سے انکار کیا ہے۔

یہ نئی سفارتی کاوشیں ایسے میں ہو رہی ہیں جب امریکہ 17 برس کے تنازع کے تصفیے کی کوشش کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایک امریکی اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےبتایا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ14000 امریکی افواج میں سے ’’تقریباً نصف‘‘ کا انخلا کیا جائے۔ لیکن، وائٹ ہاؤس نے ابھی تک خبروں میں آنے والی اس عام بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ایران اور افغانستان کے درمیان تقریباً 600 میل طویل سرحد ہے، اور حالیہ برسوں کے دوران ایک گنجلگ تعلق جاری رہا ہے۔

ایران نے ایک طویل مدت سے افغانستان میں اپنے شریک مذہبی گروہ، یعنی شیعہ ہزارہ اقلیت کی حمایت جاری رکھی ہے، جنھیں 1990ء کی دہائی میں طالبان کے دور میں تشدد کی زد میں لایا گیا تھا۔

ادھر، ایرانی وفد کے دورہٴ افغانستان کے بارے میں ایک افغان سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہٴ افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر، ڈاکٹر حمیداللہ مبارک نے اس سے قبل ایرانی قومی سلامتی کے مشیر علی شمخانی سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی‘‘۔

اس سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ملاقات کے دوران، مسائل کے مختلف زاویے نظر کو زیر غور لایا گیا، خاص طور پر امن عمل، علاقائی سلامتی اور استحکام، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی اور باہمی تعاون کے معاملات کے حوالے سے‘‘۔

افغان قومی سلامتی کے مشیر کے دفتر کے اِس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈاکٹر حمیداللہ مبارک نے اِس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ امن عمل کی قیادت افغان کرتے ہیں‘‘؛ اور یہ کہ ’’افغان دیرپہ امن کے خواہاں ہیں‘‘۔

اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’اس ضمن میں خطے کے ملک افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG