رسائی کے لنکس

جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی، بھارتی سفارتی اہل کار دفتر خارجہ طلب


فائل

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور ’’بلااشتعال سیز فائر خلاف ورزیوں کی مذمت کی‘‘

پاکستان میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو پیر کے روز دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا اور رکھ چکری اور راولاکوٹ سیکٹرز میں 30 ستمبر اور 2 اکتوبر کو بھارتی افواج کی طرف سے سیز فائر کی بلااشتعال خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی، جن کے نتیجہ میں تین شہری شہید اور ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب، پاک فوج کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والی مبینہ بھارتی فائرنگ سے ایک عام شہری ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور ’’بلااشتعال سیز فائر خلاف ورزیوں کی مذمت کی‘‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 12 روز میں بھارتی افواج کی طرف سے سیز فائر کی یہ پانچویں خلاف ورزی ہے۔ ضبط و تحمل کے مظاہرہ پر زور دیئے جانے کے باوجود بھارت مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 2017ء میں اب تک بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر700سے زائد سیز فائر خلاف ورزیاں کی ہیں جن کے نتیجہ میں 43 بیگناہ شہری شہید اور 153 زخمی ہوئے، جبکہ 2016ء میں 382 سیز فائر خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’شہریوں کو جان بوجھ کر ہدف بنانا نہایت قابل افسوس اور انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کے منافی ہے‘‘؛ اور یہ کہ ’’بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور کسی غلط اندازے کا باعث بن سکتی ہیں‘‘۔

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003ء کے سیز فائر ارینجمنٹ کا احترام کرے، سیز فائر خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور بھارتی افواج کو سیز فائر کے صحیح معنوں میں احترام کرنے کی ہدایت اور لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھنے کی ہدایت کی جائے۔

بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ’’اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان و بھارت کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق سونپے جانے والا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے‘‘۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، ’’پیر کے روز بھی بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں ایک عام شہری محمد دین ہلاک ہوگیا، جبکہ چار سویلین زخمی بھی ہوئے‘‘۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، ’’بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا اور بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا؛‘‘ اور یہ کہ ’’اطلاعات کے مطابق، دو بھارتی پوسٹوں کو تباہ کر دیا گیا ہے‘‘۔ آئی ایس پی آر نے40 سکینڈز کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG